شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف

by Other Authors

Page 43 of 64

شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف — Page 43

منٹر کی مولوی کا ایک شاگر د خوست میں بھی تھا جس کا نام الہ دین تھا۔صاحبزادہ صاحب نے حاکم کے پاس رپورٹ کی کہ خوست میں الہ دین نام مولوی منٹر کی کا شاگرد ہے۔جھوٹے فتوے دیگر لوگوں کو گمراہ کر رہا ہے۔اسکا انتظام کیا جاوے اور ایسے فتووں سے روکا جاوے۔صاحب زادہ صاحب علاوہ معززو نامی گرامی ہونیکے ایک فاضل اجل مانے جاتے تھے اسلئے آپ کی بات حکام میں بھی مانی جاتی تھی۔حاکم نے جواب دیا کہ میں تو اسکو روکنے کی کوشش کروں گا لیکن اُمید نہیں کہ وہ میری بات پر عمل کرے اور اپنی حرکتوں سے باز آوے۔اور یہ بھی اندیشہ ہے کہ ان کے مرید بہت بڑی تعداد میں ہیں اور ہر طرف پھیلے ہوئے ہیں ایسا نہ ہو کہ فساد ہو جاؤ ہے۔اُدھر یہ جواب دیا ادھر ایک سرکاری آدمی کے ہاتھ اس مولوی کے نام ایک سمن بھیجا کہ مولوی الہ دین نیہاں آکر شریعت کے احکام کا فیصلہ کرے بعد فیصلہ کے ان احکام کو بیشک جاری کرے اگر سچے ہوں ورنہ جھوٹے مسائل سے رک جاوے۔جب یہ حکم مولوی مذکور کے پاس پہنچا تو اس نے جواب دیا کہ سب ان مسائل سے خوب واقف ہوں مجھے کیا ضرورت ہے کہ انکو طے کروں۔تب وہ سرکاری آدمی واپس حاکم کے پاس لوٹ آیا اور حاکم کو اسکے انکار کی خبر دی حاکم نے امیر عبدالرحمن خاں کو رپورٹ کی کہ ایک مولوی جھوٹے مسائل بیان کرتا ہے اور اس سے فساد کا اندیشہ ہے۔حضور اس باب میں کیا حکم فرماتے ہیں۔امیر نے جواب دیا کہ اس مولوی کو یہاں بھیج دو اگر انکار کر رہے تو زبردستی پایز نجیر جلد روانہ کرد۔چونکہ اس مولوی کے بہت لوگ پیرو تھے اس لئے حاکم نے اپنی فوج کو شکار کے بہانے سے روانہ کیا۔جب شکار کر کے واپس آنے لگے تو فوج کے بعض افسر نے عرض کیا کہ اس گاؤں میں جو مولوی ہے اس کے گھر میں ٹھہرنا چاہیے وہ بڑا بزرگ اور اچھا آدمی ہے۔بزرگ اور اچھا آدمی ہے۔حاکم کا تو پہلے ہی سے اُسکے پکڑنے کا ارادہ تھا مگر یہ ارادہ