شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف — Page 30
علیہ السلام بھی ان کے پاس دیکھے۔اللہ تعالیٰ نے پھر پوچھا کہ کیا کہتے ہو میں نے وہی کہا کہ آپ پر قربان ہو جاؤں اُس وقت اللہ تعالیٰ ایک حجرہ میں مجھے لے گئے وہاں ایک لیمپ اللہ تعالیٰ نے جلائی اور گرما گرم دودھ پلایا۔مجھے کہا کہ دودھ پی لو گے میں نے کہا ہاں پی نوں گا تو پھر فرمایا کہ میں نے تجھے کہا تھا کہ درود بہت پڑھا کر۔پھر جب چلنے لگے تو میں نے عرض کیا کہ لیمپ بجھ جائے گی۔اندھیرا ہو جائے گا۔فرمایا کہ یہ نہیں بجھے گا۔پھر میں نے دیکھا کہ اس حجرہ میں رسول اللہ ﷺ اور مسیح موعود علیہ السلام کی چار پائی بھی ہے اور دو کرسیاں ہیں ایک خلیفہ ثانی کی ہے اور ایک ڈاکٹر حشمت اللہ کی جو خلیفہ ثانی کے خادم ہیں۔اس حالت میں میں کچھ بیدار ہو گیا تو دیکھا کہ میں اپنے گھر میں ہوں لیکن پھر میں نے منہ ڈھانپ لیا کہ یہ نظارہ نہ جاوے جب اللہ تعالیٰ جانے لگے تو میں نے عرض کیا کہ میرے لئے کیا حکم ہے فرمایا کہ پانچ چھ روز تک آئے گا۔اس کے بعد آنکھ کھل گئی۔اور فورا مجھ پر دعا کی قبولیت طاری ہوگئی۔اس حالت میں میرے کپڑے اور چار پائی وہی تھی اسی وقت سجدہ کیا اور دعائیں شروع کیں۔میں نے رسول کریم اور مسیح موعود علیھما السلام اور اہل بیت اور تمام قادیان کے احمدی جن کو میں جانتا تھا ان کے لئے دعا کی اور تمام سلسلہ کے لئے دعاء کی۔اس کے مشکلات کے حل ہونے کے لئے اور اُس کے چندوں کے مشکلات کے لئے دعائیں کیں۔اپنے نفس اور عیال کیلئے دعاء کی اور اپنے حیات و ممات کے لئے دعا ئیں کیں۔پھر میرا خیال اس طرف گیا کہ میں نے کہا کہ اے خدا تو نے مسیح موعود علیہ السلام کا گھر امن اور رحمت کا گھر بنایا ہے اور اس کے رہنے والوں کے لئے امن کی جگہ بنائی ہے۔تو میرا گھر بھی آپ قادر مطلق ہیں اس الہام میں داخل کر دے جن الہاموں میں تو نے مسیح موعود علیہ السلام کا گھر داخل کیا ہے۔تب میں نے دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گھر سے تاریں نکلیں نواب صاحب اور تمام گھروں سے اوپر اوپر آئیں اور میرے گھر کو لپیٹ کر حضرت صاحب کے