شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف

by Other Authors

Page 31 of 64

شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف — Page 31

۳۱ گھر میں داخل کیا۔تب میں خوش ہو گیا۔الحمد لله على ذالك - یہ باتیں میں نے تحدیث بالنعمہ اور شکر کے طور پر لکھی ہیں کہ دیکھو ایک انسان جو ر مولوی عبد اللطیف تھا۔جو ہا خدا انسان تھا۔عالم و عارف تھا۔اور قوم سے سید تھا۔بہت سی بیویاں رکھتا تھا۔جاگیردار۔لوگوں میں پیشوا تھا۔۔بادشاہ کے یہاں بھی عزت پانے والا تھا اور شاہی دربار میں اس کی کرسی تھی۔یہ سب اس نے کس بات پر قربان کیا؟ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا اور مسیح موعود علیہ السلام کی سچائی پر قربان کیا مسیح موعود علیہ السلام ایسی دولت ملی کہ ہر ایک مصیبت کے پہاڑ میں اس نے استقامت دکھلائی۔میں ایک جنگل کا رہنے والا آدمی ہوں۔میرا ملک بھی پہاڑوں اور جنگلوں کے درمیان ہے مجھ کو مسیح موعود علیہ السلام کے ماننے سے تیرہ سو سال کے بعد اللہ تعالیٰ نے اصحاب میں داخل کیا۔اس لئے کہ حدیث شریف میں آیا ہے جو مسلمان محمد رسول اللہ علیہ کو خواب میں دیکھ لے تو وہ رسول اللہ کے اصحاب میں داخل ہوتا ہے۔تو دیکھ لو کہ یہ تمام باتیں مجھے خدا تعالیٰ نے مسیح موعود علیہ السلام کی غلامی میں عطا کیں۔میں مسیح موعود کی خدمت کرتا تھا۔اور میں اس زمانہ تھیں لنگر کے واسطے بھی آٹا لانا تھا اور کبھی رات اور کبھی دن بٹالہ میں کام ہوتا تھا تو حضرت صاحب مجھے بھیجا کرتے تھے اور گورداسپور کے مقدمہ میں میں ساتھ جاتا تھا۔حضرت صاحب نے مجھے گھر سے جگانے کے لئے اپنے خاص آدمی مفتی محمد صادق صاحب کو مقرر کیا تھا۔جب میں آجاتا تھا تو حضرت صاحب فرمایا کرتے تھے کہ احمد نور آ گیا تو میں عرض کرتا کہ جی حضور آ گیا۔ایک دفعہ گورداسپور میں حضرت صاحب ٹہلتے تھے اور میں آپ کے پیچھے تھا آپ جب پیشاب کے لیئے گئے تو لوٹا پانی کالا یا۔آپ فرمانے لگے کہ میں کہیں جاؤں تو آپ میرے ساتھ رہا کریں وقت خطرہ کا ہوتا ہے تو بعض لوگ بھاگ سکتے ہیں آپ لوگ نڈر ہیں نہیں بھاگتے۔پھر فرمانے لگے کہ تم میری خدمت کیا کرو۔ہر وقت خدمت کا وقت نہیں ہوتا۔میں نے عرض کیا کہ حضور میں اس ملک سے جناب کی خدمت کے لئے آیا