واقعات شیریں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 17 of 22

واقعات شیریں — Page 17

! " ریار سے بچو اس بزرگ نے تو اسے روپیہ دے دیا مگر لوگوں نے بڑی لعن طعن کی اور کہا کہ اس کی اپنی بدنیتی ہے معلوم ہوتا ہے پہلے وعظ سن کر جوش میں آگیا اور روپیہ دے دیا اب روپیہ کی محبت نے مجبور کیا تو یہ عذر بنا لیا ہے غرض وہ روپیہ لے کر چلا گیا۔یا تو لوگ اس کی تعریف کرتے تھے اور یا اسی وقت اس کی مذمت شروع کر دی کہ بڑا روپیہ لانے سے اوّل کیوں نہ ماں سے دریافت کیا ابے وقوف ہے روپیہ کسی نے کہا جھوٹا ہے روپے دے کر افسوس ہوا تو اب یہ بہانہ روپیہ کی ضرورت ہے مجھے ایک دینی ضرورت پیش آگئی ہے مگر اس سے بنا لیا وغیرہ وغیرہ اور وہ مجلس برخاست ہوئی مولوی صاحب بھی وعظ واسطے روپیہ نہیں ہے کوئی اس کی مدد کرے۔ان کے وعظ اور ضرورت کو کے چلے گئے۔مگر جب وقت گزر گیا اور رات کی سنسان گھڑیاں میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ اس مرد سے بڑھ کر مرد خدا نہ پاؤ گے جو نیکی کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ کسی پر ظاہر نہ ہو۔میں نے تذکرۃ الاولیا میں دیکھا ہے ایک بزرگ کی حکایت لکھی ہے کہ اسے کچھ ضرورت تھی اس نے وعظ کیا اور دو بران وعظ میں بزرگ نے یہ بھی کہا کہ اس کو کچھ دینی کو دیکھ کر ایک بندہ خدا نے صالح سمجھ کر دس ہزار روپیہ اس کو دیا۔اس بزرگ نے اٹھ کر روپیہ لے کر اس کی سخاوت اور فیاضی کی بڑی تعریف کی اور کہا کہ یہ شخص بڑا ثواب پائے گا۔جب اس شخص نے ان باتوں کو سنا تو اس بات پر وہ رنجیدہ ہوا کہ جب یہاں ہے تعریف ہو گئی تو شاید ثواب آخر سے محرومیت ہو تو اٹھ کر چلا گیا اور تھوڑی دیر کے بعد واپس آکر بآواز بلند اس نے کہا کہ مولوی صاحب اس روپنے کے دینے میں مجھ سے بڑی غلطی ہو گئی ہے وہ مال میرا نہ تھا بلکہ اصل میں یہ مال میری والدہ کا ہے اور میں اس کا روپیہ خود بخود دینے کا مختار نہ تھا اور میں اس کی بے اجازت لے آیا تھا جو تھیں تو رات کے دو بجے وہ شخص وہ رویہ لے کر اس بزرگ کے مکان پر چپکے سے گیا اور آکر انہیں آواز دی وہ سوئے ہوئے تھے انہیں جگایا اور وہی دس ہزار روپیہ رکھ دیا اور عرض کی کہ حضور میں نے یہ روپیہ اللہ تعالیٰ کے واسطے دیا تھا۔یہ روپیہ اس وقت اس لیے نہیں دیا تھا کہ آپ میری تعریف کریں۔آپ نے بر سر عام میری تعریف کر کے مجھے مرحوم ثواب آخرت کیا میری تو نیت اور تھی اس لیے میں نے شیطان کے وسوسوں سے بچنے کی یہ تدبیر کی تھی اور بہانہ کیا تھا۔اب یہ روپیہ آپ کا ہے لیکن آپ کسی کے آگے نام نہ لیں نہیں اب میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ مرنے تک اسکا ذکر نہ کریں کہ فلاں نے یہ دینا نہیں چاہتی اب وہ مطالبہ کرتی ہے اس لیے وہ واپس دے دو دیا ہے۔یہ سن کر وہ بزرگ رو پڑے اس نے پوچھا آپ رہنے کیوں؟