واقعات شیریں — Page 18
تو انہوں نے جواب دیا کہ مجھے رونا اس لیے آیا کہ تو نے ایسا اتفا کیا کا ہے کہ جب تک یہ لوگ رہیں گے تجھے لعن طعن کریں گے کیونکہ کل جب اللہ چاہے ا واقعہ سب کو معلوم ہے اور یہ کسی کو معلوم نہیں کہ تو نے مجھے روپیہ واپس دیدیا ان کو اس حقیقت کی کیا خبر اور تم کہتے ہو کہ میرا نام نہ لینا اس نے کہا مجھے یہ لعنتیں منظور نہیں مگر ریاء سے بچتا چاہتا ہوں غرض وہ چلا گیا اور آخر اللہ تعالیٰ نے اس امر کو ظاہر کر دیا جو شخص خدا تعالیٰ سے پوشیدہ طور پر صلح کر لیتا ہے خدا تعالیٰ اسے عزت دیتا ہے ایک متقی تو اپنے نفس امارہ کے برخلاف جنگ کر کے اپنے خیال کو چھاتا ہے اور خفیہ رکھتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ اس خفیہ خیال کو ہمیشہ ظاہر کر دیتا ہے جیسا کہ بد معاش کسی بد چلنی کا مرتکب ہو کر خفیہ رہنا چاہتا ہے اسی طرح ایک متقی چھپ کر نماز پڑھتا ہے اور ڈرتا ہے کہ کوئی دیکھ نہ لے سچا متقی ایک قسم کا ستر چاہتا ہے تقویٰ کے مراتب بہت ہیں لیکن بہر حال تقوی کیلئے تکلف ہے اور منتقی حالت جنگ میں ہے اور صالح اس جنگ سے باہر ہے جیسے کہ میں نے مثال کے طور پر اوپر ریاء کا ذکر کیا ہے جس سے متقی کو آٹھوں پر جنگ ہے" یہ واقعہ ملفوظات جلد شتم در ۳۸ ۳۹۰ ، ۳۳۵۰ ، ۳۳۶ اور جلد اول ۲۲-۲۳ ۴۰۹ میں مختلف تفاصیل سے درج جلد دہم ہے یہاں ان تمام تفاصیلے کو یکجا کر دیا گیا ہے۔مرتب ) خدا جب کسی کام کو کرانا ہی چاہتا ہے تو گردن سے پکڑ کر بھی کرا دیتا ہے۔اس کے منوانے کے عجیب عجیب بننگ ہیں۔چنانچہ ایک مسلمان بادشاہ کا ذکر ہے کہ اُس نے امام موسی رضا کو کسی سے قید کر دیا ہوا تھا۔خدا کی قدرت ایک رات بادشاہ نے اپنے وزیر اعظم کو نصف رات کے وقت بلوایا اور نہایت سخت تاکید کی جس حالت میں ہو اسی حالت میں آ جاؤ حتی کہ لباس بد لنا بھی تم پر حرام ہے۔وزیر حکم پاتے ہی ننگے سر ننگے بدن مجبوراً حاضر ہوئے اور اس جلدی اور گھبراہٹ کا باعث دریافت کیا۔بادشاہ نے اپنا ایک خواب بیان کیا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ ایک حبشی آیا ہے اور اس گنڈا سے کی قسم کے ایک ہتھیار سے مجھے ڈرایا اور دھمکایا ہے اس کی شکل نہایت ہی پر ہیبت اور خوفناک ہے اس نے مجھے کہا ہے کہ امام موسی کو ابھی چھوڑ دو ورنہ میں تمہیں ہلاک کر دونگا۔اور اسے ایک ہزار اشرفی دے کر جہاں اس کا جی چاہے رہنے کی اجازت دو۔سو تم ابھی جاؤ اور امام موسیٰ رضا کو قید سے رہا کردو۔چنانچہ وزیر اعظم قید خانے میں گئے اور قبل اس کے کہ وہ اپنا عندیہ ظاہر کرتے امام موسی رضا