واقعات شیریں — Page 16
۲۹ واسطے کوئی ہمدردی کا ذریعہ نہ تھا اس واسطے تیرے ساتھ ایک تعلق محبت پیدا کرنے کے واسطے میں نے یہ بات سوچی تھی۔“ ( ملفوظات جلد تهم منه ) قبولیت دعا کا ایک طریق اس قدر زور شور سے دعا مانگی کہ باوا غلام فرید کو شفاء ہوگئی ( ملفوظات جلد نہم ص ۲۳۲) حصول ثواب کی تڑپ عالمگیر کے زمانہ میں مسجد شاہی کو آگ لگ گئی تو لوگ دوڑے۔دعا میں بعض دفعہ قبولیت نہیں پائی جاتی تو ایسے وقت اس دوڑے بادشاہ سلامت کے پاس پہنچے اور عرض کی کہ مسجد کو تو طرح سے بھی دعا قبول ہو جاتی ہے کہ ایک شخص بزرگ سے دعا آگ لگ گئی اس خبر کو سن کر وہ فوراً سجدہ میں گرا اور شکر کیا منگوائیں اور خدا تعالیٰ سے دعا مانگیں کہ وہ اس مرد کی دعاؤں کو حاشیہ نشینوں نے تعجب سے پوچھا کہ حضور سلامت یہ کون سا ستے۔۔۔۔۔باوا غلام فرید ایک دفعہ بیمار ہوئے اور دعا کی مگر وقت شکر گزاری کا ہے کہ خانہ خدا کو آگ لگ گئی ہے اور مسلمانوں کچھ بھی فائدہ نظر نہ آیا تب آپ نے اپنے شنا گرد کو جو نہایت ہی نیک کے دلوں کو سخت صدمہ پہنچا تو بادشاہ نے کہا میں مدت سے سوچتا مرد اور پار سا تھے ( شاید شیخ نظام الدین یا خواجہ قطب الدین) تھا اور آہ سرد بھرتا تھا کہ اتنی بڑی عظیم الشان مسجد جو بنی ہے دعا کے لیے فرمایا۔انہوں نے بہت دعا کی مگر پھر بھی کچھ اثر نہ۔اور اس عمارت کے ذریعہ سے ہزار ہا مخلوقات کو فائدہ پہنچتا ہے۔یہ دیکھ کر انہوں نے ایک رات بہت دعا مانگی کہ اسے کاش کوئی ایسی تجویز ہوتی کہ اس کار خیر میں کوئی میرا بھی حصہ ہوتا میرے خدا اس شاگرد کو وہ درجہ عطا فرما کہ اس کی دعائیں قبولیت لیکن چاروں طرف سے میں اس کو ایسا مکمل اور بے نقص دیکھتا تھا کا درجہ پائیں اور صبح کے وقت ان کو کہا کہ آج ہم نے تمہارے کہ مجھے کچھ سوچھ نہ سکتا تھا کہ اس میں میرا ثواب کسی طرح ہو جائے لینے یہ دعا مانگی ہے۔یہ سن کر شاگرد کے دل میں بہت ہی رقت سو آج خدا تعالیٰ نے میرے واسطے حصولِ ثواب کی ایک راہ نکال والله سميع عليم (بقرہ : ۲۲۵) اور اللہ خوب سننے والا اور پیدا ہوئی اور اس نے اپنے دل میں کہا کہ جب انہوں نے میرے دی لیے ایسی دعا کی ہے تو آؤ پہلے انہیں ہی شروع کرو اور انہوں بہت جاننے والا ہے۔" 16 ) ملفوظات جلد اول ص ۳۸)