حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ

by Other Authors

Page 40 of 228

حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 40

حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 40 خود نوشت حالات زندگی جا رہا ہے اور ہماری جماعت کے شریف دوست اطاعت ووفا شعاری میں اپنی زبانیں رڈ (بند) کئے ہوئے ہیں۔میں نے انہیں بعض باتیں بتائیں جو ہماری طرف منسوب کی جاتی تھیں اور ان سے کہا کہ آپ سرحد میں کمشنر رہ چکے ہیں اور ہمارے عقائد سے بھی واقف ہیں کیا یہی ہمارے خیالات ہیں۔انہوں نے کہا نہیں۔میں نے کہا آپ کی کتابیں پڑھی ہیں یہ باتیں بالکل غلط ہیں۔میں نے اپنی ملاقاتوں کا بھی ذکر کیا جو علماء وغیرہ سے ہو چکی تھیں اور بتایا کہ وزارت داخلہ ہمیں آزادی دینے کیلئے تیار تھی لیکن آپ کے برطانوی مستشار نے اسے روک دیا ہے اور میرے پاس اس کے متعلق یقینی معلومات ہیں۔اب میں ہندوستان میں جا کر اپنے دوستوں کو حقیقت سے آگاہ کروں گا اور صورتِ حال اخبار کے ذریعہ سے عیاں کروں گا کہ وفا دار بنا نقصان دہ ہے۔اس پر وہ گھبرائے اور کہنے لگے آپ ایسا نہ کریں۔میں ابھی مستشار کو خط لکھ دیتا ہوں۔آپ اس سے ملیں اور میرا خط لے جائیں میں نے کہا ہمارا وفدان سے ملنے گیا تھا اور یہ سیکرٹری صاحب بھی غالباً اس وفد میں تھے مگر انہوں نے ملنے سے انکار کر دیا تھا۔کہنے لگے آپ اطمینان رکھیں اب وہ انکار نہیں کریں گے۔چنانچہ دوسرے دن صبح میں اور شیخ صاحب موصوف گئے۔وہ ناشتہ کر رہے تھے۔ملازم میرا خط لے گیا اور جلدی واپس آیا کہ وہ ابھی آ رہے ہیں۔چنانچہ وہ فورا ہی آگئے اور تجدید تعارف کے بعد باتیں ہونے لگیں۔کہنے لگے آپ نمازیں تو پڑھتے ہیں جمعہ بھی ہوتا ہے اس سے بڑھ کر اور کیا آزادی چاہتے ہیں؟ میں نے کہا ہم نے نمازوں وغیرہ کے لئے تو کوئی اجازت نہیں مانگی تھی اور نہ حکومت ہماری عبادت کو روک سکتی ہے۔کہنے لگے کیوں نہیں روک سکتی۔بہائیوں کی عبادت گاہ مقفل کر دی گئی ہے۔میں نے کہا کہ بہائیوں کے صدر نے مجھے دعوت دی اور میں نے ان کے مکان میں دیکھا کہ وہ اپنی نمازیں بھی پڑھتے ہیں تبلیغ بھی کرتے ہیں اور ان کا مجھ سے کافی دیر تک تبادلہ خیالات ہوتا رہا۔کہنے لگے قرون مظلمہ میں بڑی سختی کی جاتی ہے۔آپ تو تاریخ ادیان کے پروفیسر رہ چکے ہیں۔حکومتوں نے بڑی بڑی سختیاں کی ہیں۔میں نے کہا ہاں مگر باوجود ان سختیوں کے ایک