حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ

by Other Authors

Page 41 of 228

حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 41

حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 41 خود نوشت حالات زندگی مخلص عابد کوحکومتیں اس کی عبادت سے نہیں روک سکیں اور نہ ہم نے اس کے لئے حکومت سے اجازت مانگی ہے اور نہ اجازت کی ضرورت ہے۔کہنے لگے اچھا میں سفارش کر دیتا ہوں کہ آپ کو اس شرط پر اجازت دی جائے کہ کسی کو احمدی نہ بنائیں جس طرح عیسائی کسی کو عیسائی نہیں بنا سکتے۔میں نے کہا آپ کو احمدیت کے بارے میں بڑی غلط فہمی ہے۔احمدی بنے کیلئے کسی بپتسمہ کی ضرورت نہیں بلکہ الفاظ کے معانی میں اختلاف ہے۔جہاں کسی کو سمجھ آ گیا کہ لفظ توفی کے معنی موت ہیں وہ احمدی ہے۔کہنے لگے میں اس شرط کے ساتھ سفارش کروں گا اور ہم واپس لوٹے۔شیخ صاحب محترم نے یہ اثر قبول کیا کہ میں نے کھرے کھرے جواب دے کر اس کو ناراض کر دیا ہے اور کام بگاڑ دیا ہے اور بعض احمدیوں نے مجھے یہ بتایا کہ شیخ صاحب کا خیال ہے کہ میں نے معاملہ بگاڑ دیا ہے۔میں نے کہا نہیں بلکہ میں نے سنوار دیا ہے۔اپنے دوست رستم حیدر کو میں نے ساری سرگزشت سنائی اور جب مستشار داخلی کی سفارش مجلس کے پاس پہنچی تو وزارت داخلہ کو رنج ہوا اور بادشاہ کو بھی ان کی مشروط سفارش سے تکلیف ہوئی بلا قید و شرط ہماری ( مذهبی ) آزادی کا حکم صادر فرمایا اور سابقہ حکم منسوخ کر دیا۔مقامی جماعت اس واقعہ سے اس قدر خوش تھی کہ حضرت خلیفتہ اسی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کو بذریعہ تار اطلاع دی۔اخبارات میں شائع کروایا اور میرے سفر کے لئے اپنے خرچ پر فرسٹ کلاس کمپارٹمنٹ ریز رو کروایا اور دعاؤں کے ساتھ بصرہ کی طرف مجھے الوداع کیا جہاں ایک مختصرسی جماعت تھی جس نے میرا استقبال کیا اور بصرہ میں میرے لئے ( دعوۃ الی اللہ ) کے مواقع بہم پہنچائے۔ان میں سے جامع مسجد کے ایک شیعہ مجتہد کے ساتھ دودن میرا تبادلہ خیالات ہوا۔مسجد بھری تھی۔پہلے اجلاس میں اس نے مان لیا کہ مسیح فوت ہو گئے ہیں۔دوسرے اجلاس میں مجتہد اس اقرار سے کچھ پیچھے ہٹنے لگا تو میں نے یہ بھانپ کر لوگوں کو مخاطب کرنا شروع کر دیا۔مجتہد کہنے لگا آپ لوگوں کو کیوں مخاطب کرتے ہیں مجھ سے بات کریں۔میں نے کہا اس لئے مخاطب کرتا ہوں کہ آپ حق پہچان کر انکار کی طرف مائل ہورہے ہیں۔لیکن لوگ حق پہچان