حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ

by Other Authors

Page 39 of 228

حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 39

حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 39 خود نوشت حالات زندگی ازیں ان کے لئے اجازت بھی طلب نہ کی گئی تھی۔تائیدات الہیہ میں نے اندر جا کر ہائی کمشنر سے کہا میرے ساتھ مقامی جماعت کے سیکرٹری ہیں اگر اجازت ہو تو وہ بھی اندر آ جائیں۔( مقامی جماعت کے سارے افراد وہی تھے جو ہندوستان سے کسی نہ کسی محکمہ میں مستعار خدمت پر لیے گئے تھے ) ہائی کمشنر نے اجازت دی اور میں نے ان سے گفتگو شروع کی اور کہا کہ عراقی حکومت نے جماعت احمدیہ پر پابندی عائد کی ہے اور اس تعلق میں جماعت احمدیہ کے دفتر نظارت خارجہ کی طرف سے گورنمنٹ آف انڈیا کے ساتھ کافی دیر سے خط و کتابت ہورہی ہے اور ہر دفعہ گورنمنٹ کی طرف سے یہی جواب دیا گیا ہے کہ حکومت عراق نے مقامی حالات کے پیش نظر یہ پابندی عائد کی ہوئی ہے اور وہ یہ پابندی منسوخ کرنے کیلئے تیار نہیں لیکن یہاں آ کر مجھے معلوم ہوا ہے کہ حکومت عراق کو کوئی شکایت نہیں بلکہ وہ آزادی دینے کیلئے تیار ہے لیکن برطانوی مستشار نے یہ مشورہ دیا ہے کہ ہمیں (مذهبی) آزادی دینا مناسب نہیں۔اس مستشار کا نام کارنولس (Cornwollis) تھا اور وہ مجھے دمشق سے جانتے تھے جب جنرل امین جے Allen) کے حکم سے نظر بند کر کے میں مصر لے جایا گیا۔یہ اتنے متعصب تھے کہ جعفر صادق اور منظور واحد حسین وغیرہ ایک وفد کی صورت میں انہیں ملنے گئے اور دو تین گھنٹے انتظار کرنے کے بعد ملنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ میں چند آدمیوں کی خاطر شہر میں فساد برپا کرنا مناسب نہیں سمجھتا۔یہ دوست مجھے بھی ساتھ لے جانا چاہتے تھے لیکن جس دن یہ ان سے ملنے گئے اسی رات میں نے خواب دیکھا کہ میں مستشار کے کمرے میں داخل ہوا ہوں اور مصافحہ کیلئے ہاتھ بڑھایا مگر انہوں نے انکار کر دیا جس سے مجھے شدید غصہ ہے۔دوسرے دن جب یہ دوست جانے لگے تو میں نے ان سے معذرت کر لی کہ میراجانا مناسب نہیں۔میں نے ہائی کمشنر سے کہا کہ ہماری جماعت بڑی وفا دار ہے۔یہ اس وفاداری کا نتیجہ بھگت رہی ہے کہ ہماری طرف غلط باتیں منسوب کی جاتی ہیں اور ہمیں بدنام کیا