حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 7
حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 7 سوانحی خاکه۔۔۔صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے، حضرت مولانا سید سرور شاہ صاحب، حضرت سید میر محمد الحق صاحب، حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب، حضرت مولانا عبدالرحیم درد صاحب، حضرت مولا نا محمد دین صاحب اور بعض دوسرے احباب پر پرمشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جس نے مختلف پہلوؤں پر غور کرنے کے بعد ایک سکیم تیار کی۔اس سکیم کے مطابق عملی اقدام کرے۔رپورٹ جلسہ سالانه صدرانجمن احمد بی قادیان ۱۹۲۰ صفحه ۵۹) چنانچہ اس سکیم کے مطابق حضور نے ۱۹۲۴ء میں صدر انجمن احمدیہ کو ہدایت فرمائی کہ وہ (الفضل قادیان ۱۴/اگست ۱۹۲۸ء) چنانچہ کئی مراحل طے ہونے کے بعد صدرانجمن نے ۱۱۵ اپریل ۱۹۲۸ء کو جامعہ احمدیہ کے م سے ایک مستقل ادارہ کے قیام کا فیصلہ کیا جس کے مطابق مدرسہ احمدیہ کی مولوی فاضل کلاس کو اس عربی کالج کی پہلی دو جماعتیں قرار دے دیا گیا۔رپورٹ مجلس مشاورت قادیان ۱۹۲۹ صفحه ۲۱) ۲۳ جون ۱۹۳۲ء کو حضرت میر قاسم علی دہلوی صاحب اور حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب موضع گوڑے تحصیل نکو در ضلع جالندھر کے احمد یہ جلسہ پر گئے۔جہاں سے ۲۷ جون کو واپس آئے۔اس جلسہ کی روئیداد فاروق کے جولائی ۱۹۳۲ء میں شائع ہوئی۔(فاروق قادیان ۲۷ جولائی ۱۹۳۲ ء صفحه ۲) جولائی ۱۹۳۲ ء میں حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب کشمیر کمیٹی کے کام کیلئے حسب ہدایت حضرت خلیفہ اسیح الثانی نور اللہ مرقدہ ریاست کشمیر میں گئے۔(فاروق ۱۴ جولائی ۱۹۳۲ صفحہ۱) اگست ۱۹۳۲ء میں آپ بطور نمائندہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی سری نگر میں خدمات بجا الفضل قادیان ۱۶/اگست ۱۹۳۲ ء صفحه ۹) لاتے رہے۔