حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 6
حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 6 سوانحی خاکه۔۔۔ملاقات کے بعد جماعت احمدیہ پر دعوۃ الی اللہ کی پابندیاں اٹھالی گئیں۔۱۰مئی ۱۹۲۶ء کو آپ عراق سے ہوتے ہوئے قادیان وا پس تشریف لائے۔الفضل قادیان ۱۳ ۱/۳۰ پریل ۱۴۰ مئی ۱۹۲۶ء) جون ۱۹۲۶ء میں جب آپ عراق سے واپس تشریف لائے تو ایک موقع پر سیدنا حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نور اللہ مرقدہ نے فرمایا۔”میرے نزدیک (سید زین العابدین ولی اللہ ) شاہ صاحب نے اس سفر ( دمشق و عراق ) میں بڑا کام کیا ہے۔یہ کام اس قسم کا ہے کہ سیاسی طور پر اس کے کئی اثرات ہیں۔اس سے یہ سمجھا جائے گا کہ احمدی قوم حکومتوں کی رائے بدلنے کی قابلیت رکھتی ہے۔پس شاہ صاحب نے بہت بڑی خدمت کی ہے۔الفضل قادیان ۱۸ جون ۱۹۲۶ ، صفحه ۶،۵) ۱۹۲۶ء میں بطور ناظر تجارت خدمات بجالاتے رہے۔۱/۲۸ اکتوبر ۱۹۲۶ء سے ۲۲ جنوری ۱۹۳۱ ء تک آپ بطور رکن نظارت تالیف و تصنیف میں بحیثیت مصنف ترجمہ و شرح بخاری خدمات بجالاتے رہے۔(خود نوشت سوانح حیات ولی اللہ ) ۲۶ دسمبر ۱۹۲۶ء کو جلسہ سالانہ قادیان کے موقع پر آپ نے حضرت مسیح علیہ السلام کا صلیب سے بچ کر مشرق کی طرف آنا “ کے موضوع پر تقریر کی۔( الفضل قادیان ۳۱ دسمبر ۱۹۲۶ء) ه نوراللہ سیدنا وامامنا حضرت خلیفہ اسی الثانی نور اللہ مرقدہ کا آغاز خلافت سے یہ خیال تھا المسیحاله کہ جماعت احمدیہ کی عالمگیر ( دعوۃ الی اللہ ) کی ضروریات کیلئے مدرسہ احمدیہ کو ترقی دے کر ایک عربی کالج تک پہنچانا ضروری ہے۔اسی مقصد کی تکمیل کیلئے سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثانی نور اللہ مرقدہ نے ۱۹۱۹ء میں پہلا قدم یہ اٹھایا کہ حضرت