حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 124
حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 124 نذرانہ عقیدت کچھ یادیں، کچھ تاثرات از مکرم و محترم چوہدری شبیر احمد صاحب وکیل المال اول سلمہ اللہ تعالیٰ اک اور بزم یار کا گل ہو گیا چراغ اس قلب ناتواں پہ لگا ایک اور داغ محمود کا جری تھا جو رخصت ہوا ہے آج اللہ کا اک ولی تھا جو رخصت ہوا ہے آج تجھ کو بھلا سکے گی نہ کشمیر کی زمیں جس کا تو شہسوار تھا اے زین العابدین نازاں تری زبان پہ تھی اُمّم الالسنہ عارف بنا گیا تجھے اک شوقِ بے پنہ پروانه خلافت حقہ رہا مدام تھے دین مصطفیٰ کیلئے تیرے صبح و شام تو یادگار عید مسیح الزماں تھا فضل عمر کی بزم کا اک راز دان تھا ہم پر بہت گراں ہے اگر چہ تری وفات لیکن مسیح وقت کی یاد آ گئی ہے بات ”جو مر گئے انہی کے نصیبوں میں ہے حیات ؤمر اس راہ میں زندگی نہیں ملتی بجز ممات اے جانے والے جا ترا فردوس ہو مقام پر خدا کی رحمتیں افشاں رہیں مدام تجھ (روز نامه الفضل ربوه ۲۰ مئی ۱۹۶۷ء)