حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 103
حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 103 ذکر حبیب ہوئی۔تو اس وقت حضور کی زیارت کرنے والے لوگوں کا ایک انبوہ تھا جس میں غیر احمدی بھی بکثرت تھے۔حضور فٹن سے اتر کر مکان پر جانے کے لئے سیڑھی پر چڑھے( ایک چھوٹی سی چوبی سیڑھی اور کمرے میں جانے کے لئے رکھی ہوئی تھی ) تو اس موقعہ پرکسی شخص نے گالی دی۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ ہمیں دیکھ کر ہمارے پاس تشریف لے آئے۔اِدھر اُدھر کی باتیں ہونے کے بعد غالباً میاں محمد شریف صاحب نے تجویز کی کہ کل صبح دریائے راوی پر چلیں جب جانے کے متعلق فیصلہ ہو گیا تو حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بتا کید فرمایا۔کہ کل صبح ہوٹل میں تیار رہنا۔ہم اسی طرف سے آئیں گے اور تمہیں بھی ساتھ لے جائیں گے۔چنانچہ منگل کی صبح کو میں تیار ہو کر ان کی آمد کا انتظار کرنے لگا۔مگر انتظار کرتے کرتے دن کے 9 بج گئے۔خواجہ عبد الرحمن صاحب امرتسری جو میرے کلاس فیلو تھے انہوں نے کہا کہ آنے میں دیر ہوگئی ہے۔آؤ پہلے کھانا کھا لیں میں کھانا کھانے کے لئے ان کے ساتھ گیا لیکن بوجہ ایک نامعلوم غم کے جو میرے دل پر طاری تھا۔میں کھانا نہ کھا سکا۔میں نے عبدالرحمن صاحب سے کہا کہ مجھے کوئی حادثہ معلوم ہوتا ہے۔خدانخواستہ حضرت میاں صاحب پر کسی نے حملہ نہ کر دیا ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کی طرف خیال تک نہ گیا۔حالانکہ اس سے دو تین دن پہلے حضور علیہ السلام بیمار تھے۔میں عصر کی نماز پڑھنے کے لئے گورنمنٹ کالج سے احمدیہ بلڈنگ میں گیا تو میرے سامنے کسی نے حضور علیہ السلام سے پوچھا کہ حضوراب طبیعت کیسی ہے۔اسہال میں کچھ فرق ہے؟ تو حضور علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ میں نے کلوروڈائین استعمال کی ہے۔اور آگے سے کچھ افاقہ ہے تو اگر چہ میں جانتا تھا کہ حضور بیمار ہیں لیکن باوجود علم کے میرا ذ ہن آپ کے متعلق کسی حادثہ کی طرف نہیں گیا۔بلکہ یہی خیال غالب ہوا کہ کسی نے حضرت میاں صاحب پر حملہ نہ کر دیا ہو۔یہ خیال آتے ہی لقمہ میرے ہاتھ سے گر گیا۔اتنے میں چوہدری فتح محمد صاحب اور شیخ تیمور صاحب کو ہوٹل کے گیٹ سے نکلتے ہوئے میں نے