حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ

by Other Authors

Page 104 of 228

حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 104

حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 104 ذکر حبیب دیکھا۔میں اس وقت باورچی خانہ کے سامنے کھانے کی میز پر بیٹھا ہوا تھا۔میں نے انہیں دیکھا۔کہ یہ جلدی جلدی باہر جارہے تھے۔میں نے اپنی جگہ پر بیٹھے ہوئے ہی ہاتھ کے اشارہ سے ان سے پوچھا کہ کیا ہے؟ انہوں نے کچھ جواب دیا۔مگر ہم اسے اچھی طرح نہ سن سکے لیکن ہاں یہ ہاتھ کے اشارہ سے ہمیں بلا رہے تھے کہ آؤ وہاں چلیں جس سے میں سمجھا کہ احمدیہ بلڈنگ کی طرف یہ جارہے ہیں۔گھبراہٹ ان کے چہروں سے اور رفتار سے نمایاں تھی۔میں بھی عبدالرحمن صاحب کو ساتھ لے کر احمد یہ بلڈنگ کی طرف چلا گیا جب ہم اس سڑک کے محاذ پر پہنچے۔جو دہلی دروازہ کی طرف سے آکر لوہاری دروازہ کی طرف جاتی ہے تو میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک انبوہ ہے جو دہلی دروازہ کی طرف سے آ رہا ہے اور انہوں نے ایک جنازہ اٹھایا ہوا ہے۔جنازہ کی چار پائی پر جو شخص لیٹا ہوا ہے اس کا مونہہ کالا کیا ہوا ہے۔آنکھیں اس کی چمک رہی ہیں اور اس کا سر ہلتا بھی ہے اور جنازہ کے ارد گرد کے لوگ یہ کہہ کر پیٹ رہے ہیں کہ ” ہائے ہائے مرزا میں اس ماجرا کو دیکھ کر حیران رہ گیا اور کچھ نہ سمجھا۔ٹانگہ ہمیں جلدی سے احمد یہ بلڈنگ کی طرف لے گیا اور اترتے ہی ایک شخص سے پوچھا کہ کیا ہے؟ اس نے مجھے جواب دیا کہ سچ ہے۔میں اس سے کچھ بھی نہ سمجھا اور گھبراہٹ میں بجائے اس سے مزید دریافت کرنے کے سیڑھی سے چڑھ کر او پر مکان میں پہنچا اور چوہدری ضیاء الدین صاحب مرحوم سے جو باہر بے بسی کی حالت میں زمین پر بیٹھے ہوئے تھے۔پوچھا کہ کیا ہے؟ انہوں نے مجھے بھرائی ہوئی آواز میں کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فوت ہو گئے ہیں۔یہ سن کر میری ٹانگوں میں سکت نہ رہی اور میں بھی بیٹھ گیا۔پھر جلدی ہی وہاں سے اٹھ کر احمد یہ بلڈنگ کے پچھواڑے میں جہاں اس وقت ایک کھیت تھا۔جا کر خوب رویا اور تنہائی میں دل کی ساری بھڑاس نکالی۔اس وقت دل کے غم کی انتہا کو سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جانتا تھا۔پھر حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے جنازہ کے ساتھ گاڑی میں بٹالہ پہنچا۔امرتسرٹیشن کے پلیٹ فارم پر ہم نے مغرب کی نماز حضرت خلیفہ اسیح الاوّل ( نور اللہ مرقدہ) کی اقتداء میں