حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ

by Other Authors

Page 102 of 228

حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 102

حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 102 ذكر حبيب حضور اس کی خاطر سے تشریف لائے ہیں اور پانچ چھ اور آدمی وہاں جمع ہیں۔اس نے سوال کیا کہ آپ کی بیعت یا صحبت سے کیا فائدہ حاصل ہوتا ہے۔اس کا جواب دیتے ہوئے جوش کی حالت میں تقریر فرمانے لگے۔دوران تقریر میں بہت ہی گونجتی ہوئی بلند آواز سے فرمایا کہ ایک بچہ جس نے ایک ہفتہ بھی میری صحبت میں گزارا ہے۔وہ مشرق اور مغرب کے مولویوں کو شکست دے سکتا ہے اور اپنے اندر وہ تاثیر رکھتا ہے۔جو ان مولویوں میں نہیں۔اس پر آپ کی آنکھیں سُرخ تھیں اور حضور میری طرف دیکھ رہے تھے۔میری عمر اس وقت سترہ سال کی ہوگی۔اس وقت اس مجلس میں میرے سوا اور کوئی بچہ نہ تھا اور اس وقت میں نے یہ دعا کی کہ الہی حضور کے اس قول کا ہی مصداق بنوں۔اس دعا کرنے کو میں نے اس لئے غنیمت سمجھا کہ میں نے سنا ہوا تھا کہ اولیاء اللہ کی نظر ایک منٹ میں وہ کچھ کر سکتی ہے کہ سینکڑوں سال کی محنت و اعمال وہ نہیں کر سکتے اور میرا یہ یقین ہے کہ اس وقت جو مجھے مشرق و مغرب میں ( دعوۃ الی اللہ ) کی توفیق ملی اور بڑے سے بڑے عالم اور بڑے سے بڑے امیر نے میری باتوں کو سنکر میرے ہاتھوں کو چوما ہے۔وہ محض مسیح موعود کی اس نظر کی برکت سے تھا“۔( الحکم قادیان اگست ۱۹۳۸ء) ۲۶ مئی ۱۹۰۸ ء ا حباب پر کیا گذری حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب بیان فرماتے ہیں:۔لاہور میں جب حضور علیہ السلام کا انتقال ہوا۔تو اس وقت میں بھی لاہور میں تھا اور گورنمنٹ کالج کی فرسٹ ائیر کلاس میں پڑھتا تھا۔۲۶ مئی ۱۹۰۸ ء اور منگل کا دن ہمیں کبھی نہیں بھول سکتا۔۲۵ مئی کی شام کو سورج غروب ہونے سے کچھ دیر پہلے احمد یہ بلڈنگ میں خواجہ کمال الدین صاحب کے مکان کے سامنے کھڑا تھا۔میرے ساتھ میاں احمد شریف صاحب ریٹائر ڈالی۔اے سی کے علاوہ اور بھی کئی دوست کھڑے تھے کہ اتنے میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام فٹن میں بیٹھے ہوئے تھے جب حضور کی بگھی خواجہ صاحب کے مکان کے سامنے کھڑی