ولادت سے نبوت تک — Page 75
ظاہر کرنا چاہا۔کیونکہ وہ تو ایک چھپا ہوا خزانہ تھا اور اس کی قدرتیں اس کی مخلوقات پر ہی ظاہر ہو سکتی تھیں۔پھر کوئی ایسی مخلوق بھی ہوتی جو براہ راست نہ صرف یہ کہ اس کی شان۔اس کے جلال۔اس کی رحمت ، قدرت ، برکت سے حصہ لیتی بلکہ اس کے علوم، اس کے رازوں ، اس کے چھپے ہوئے معرفت و عرفان کے خزانوں کو بھی جان سکتی۔اور سب کچھ جان کر پہچان کو پھر اس کی عظمت اس کی بزرگی اور ہوتری کی قائل ہوتی۔اور پھر اس کے آگے سچے دل خلوص کے ساتھ جھگتی۔اس سے پیار کرتی اور اس کے پیار کو حاصل کرتی۔اس مقصد کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے نور سے ایک نور کو پیدا کیا اور اس کا نام نور محمدی رکھا۔اس کی خاطر کا ئنات کو بنایا۔زمین پیدا کی۔اس پر دو سری معلومات کے ساتھ ساتھ انسان کو بھی پیدا کیا۔انسان میں ترقی کا مادہ رکھا۔اس کو یاد داشت یعنی حافظہ عطا کیا۔اور پھر ان انسانوں کی ہدایت کے لئے نیوں کا سلسلہ جاری کیا۔جو اسی نور سے یعنی نور محمدی سے حصہ لیے کر انسانوں کی اصلاح کا کام کرتے رہے۔انہیں نیکیوں کی طرف بلانے ر ہے۔اور آخر میں ساری قوموں کی اصلاح کے لئے اپنے سب سے پیارے محبوب بندے حضرت محمد مصطفے کو بھیجنا نخدار جیس کی خاطر سارا انتظام قائم کیا تھا۔بچہ امی اب تو پیارے محمد اس دنیا میں آچکے اور بڑے بھی ہو گئے۔آپ مجھے تبدیلیوں کے بارے میں بتائیں۔۔ماں میں آپ کو اسی طرف لا رہی ہوں۔لیکن اگر آپ نے شروع کی بات نہ سمجھی تو باقی باتوں کے سمجھنے میں بھی وقت (مشکل) ہوگی۔یہ تو آپ