ولادت سے نبوت تک

by Other Authors

Page 48 of 90

ولادت سے نبوت تک — Page 48

۴۸ ہے۔اس لئے اس کو نا جائز لڑائی کا نام دیا۔ہوا یوں کہ قبیلہ بنوا اذر کے عروہ الرجال بن عتبہ نے عظیمہ کو نعمان بن منذر کے واسطے پناہ دے دی۔بنی کنانہ کے قبیلہ کے براض بن قیس نے عروہ کو کہا۔کیا تو بنی کنانہ کے متقابلہ پر بناہ دیتا ہے عرب جب کسی کو پناہ دیتے تھے تو ہر لحاظ سے اس کی حفاظت کرنا ان پر فرض تھا۔کیونکہ یہ ان کی غیرت کا سوال تھا۔عروہ نے کڑک کر جواب دیا کہ بنی کنا نہ تو کیا ئیں ساری مخلوق کے مقابلہ پر اس کو پناہ دیتا ہوں۔پھر کیا تھا۔پراض بھڑک اٹھا۔لیکن اس وقت چُپ ہو گیا اور موقعہ کی تاک میں رہا۔ایک دن عروہ مقام نمین ذی کلال میں آیا۔جہاں براض نے اسکو غافل پا کر قتل کر دیا۔یہ قتل کیونکہ حرمت والے مہینہ میں ہوا جس میں کسی کو مارنا منع ہے اس لئے یہ جنگ حرب فجار کہلاتی ہے۔بچہ قریش تو ضرور بھڑک اُٹھے ہوں گے کیوں کہ یہ تو ان کی غیرت کا سوال تھا ؟ ماں جب یہ خبر قریش کو پہنچی تو وہ کے احاطے میں تھے۔یہ سنتے ہی وہ سب روانہ ہوئے۔ادھر ہوا زن قبیلہ کے لوگ بھی بھاگے۔انہوں نے قریش کو حرم میں داخل ہونے سے پہلے گھیر لیا اور لڑائی شروع ہو گئی۔لیکن رات کو قریش حرم میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے۔یوں یہ جنگ رک گئی ہے لیکن کچھ عرصہ بعد دونوں طرف شه سیرت خاتم النبین ص ۲۵) شه این شام جلد اول صفحه ۱۱۹ - ۱۲۰