ولادت سے نبوت تک — Page 49
۴۹ کے قبائل کے رؤسا کے روکنے کے باوجود پھر چھڑ گئی یہ اسطرح یہ جنگ کئی بار رک رک کر ہوتی رہی۔لیکن اس کی سب سے زیادہ خطر ناک لڑائی آخری اور چوتھی جنگ ہے جس میں جوش غضب اور انتقام کی وجہ سے اپنی خاندانی غیرت کی خاطر بعض روسیا نے اپنے آپ کو رسیوں سے بند ھوا لیا تھا کہ اگر لڑائی کا دور ہوجاتے تو بھی بھاگ نہ سکیں بلکہ مقابلہ کرتے رہیں ہے یہ لڑائی قریش اور بنو کنان کے مقابلہ پر قیس عیلان اور قبیلہ ہوازن کے درمیان لڑی گئی ہے بچہ اس جنگ کے جرنیل کون کون تھے ؟ ماں جنگ میں ہر قبیلہ کا افسر الگ الگ تھا۔زبیر بن عبدالمطلب ن کی نگرانی میں بنو ہاشم تھے جبکہ بنو کنانہ کا افسر حرب بن امیہ جوابو سفیات کا باپ تھا، مقرر ہوائے صبح کے وقت سے دن چڑھے تک بنو قیس کا پلہ بھاری تھا۔لیکن دو پہر کے بعد بنو کنانہ نے ان کو دبا دیا۔یوں قریش کو فتح ہوئی۔اس جنگ میں پیارے محمد بھی شریک ہوئے تھے آپ اپنے چھاؤں کو تیر پکڑاتے تھے۔خود لڑائی میں حصہ نہ لیا۔اس لیا۔وقت آپ کی عمر ۲۰ سال تھی شے جنگ کے ختم ہونے کے بعد کیا ہوا ؟ ماں اس طویل جنگی سلسلہ نے کئی گھرانوں کو برباد کر دیا۔کسی کا باپ نہ رہا تو کسی بیتا اور کسی کا شوہر۔پھر اس کے علاوہ عرب جنگو فطرت کے مالک تھے جو زیادہ طاقتور ہوتا وہ کمزور کا مال چھین لیتا۔زمین ابن ہشام جلد اول صفحه ۱۱۹ - ۱۲۰ سیرت خاتم النبيين جلد اول صفحه ۱۳۴ ۱۳۵۰ LAY / سیرت النبی شبلی نعمانی ١٢٠٧۔