وفات مسیح اور احیائے اسلام — Page 35
۳۵ کی نسبت کیا گواہی دیتے ہو ؟ انہوں نے کہا ہم شہادت دیتے ہیں کہ وہ اللہ کے رسول ہیں۔پھر دریافت کیا حضرت عیسی کی بابت تمہاری گواہی کیا ہے ؟ جواب ملا ہم شہادت دیتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ہیں۔اس پر حضرت جائر و دبن معلی نے قوت و شوکت بھرے الفاظ میں اعلان کیا: وانا اشهد DNA KALANGUAGE الله وان محمدا عبده رَسُولُهُ - عَاشَ كَمَا عَاشُوا وَ مَاتَ حَما مَا توا ا مختصر سيرة الرسول ص از مجدد صدی دوازدهم حضرت محمد دین محمد عبد الوهاب المتوفی ۳ ہجری) کہ میں بھی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد مصطفے صلی اللہ علیہ والہ وسلم اس کے بندے اور رسولی ہیں۔آنحضرت ویسے ہی زندہ رہے جیسے حضرت موسیٰ اور حضرت میٹی زندہ رہے اور اسی طرح انتقال کر گئے جس طرح حضرت موسی : حضرت عیبی نے وفات پائی۔اور یہ سنتے ہی عبدالقیس کا پورا قبیلہ عیسائیت کو چھوڑ کر دوبارہ مسلمان ہو گیا ہو وفات مسیح کے انقلاب آفریں اور زندگی بخش نظریہ کا ہی اعجانہ تھا۔اجماع صحابیہ کی ایک جھلک کوفہ میں اس اجماع صحابہ کی ایک جھلک اہل کوفہ نے بھی سنہ ہجری میں دیکھی جبکہ نوا شد سوالی و جگر گوشہ بتول نه سید نا حضرت امام حسن علیہ السلام نے امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی شہادت پر خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : بَقَدْ قُبِضَ فِي اللَّيْلَةِ الَّتِي عُرِجَ فِيهَا بِرُوحِ عيسَى ابْنِ مَرْيَمَ لَيْلَةَ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ مِنْ رَمَضَانَ " (طبقات ابن سعد جلد ۳ ۲۶۰ مطبوعہ کیدن )