وفات مسیح اور احیائے اسلام — Page 36
یعنی امیر المومنین حضرت علی اس رات فوت ہوئے جس رات حضرت میسی ابن مریم کی روح اٹھائی گئی تھی یعنی ستائیس رمضان کی رات " اکابر امت اور عقیدہ وفات مسیح صحابہ کے بعد بہت سے اکابر امت مثلاً حضرت امام مالک بن انس د ستونی شدید) حضرت امام بتخارجی دستوئی نشده، حضرت محمد بن عبد الوہاب جبائی (متوفی ته) اور حضرت ابن جریر طبری رمتونی نه ) حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کی موت کے قائل تھے۔حضرت ابن جریر نے تو اپنی تاریخ میں قبر مسیح کے کنبہ کے یہ الفاظ بھی درج فرمائیے : هذَا تَبُرُ رَسُولِ اللهِ عِيسَى الغرض پہلی تین اسلامی صدیوں میں صحی یہ نئے کی اجماعی عقیدہ کی گونج پورے عالیم اسلام میں سنائی دیتی رہی۔عیسائیوں کی سازش افسوس ! خیر القرون کے بعد وہ عیسائی طاقتی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک میں سُرنگ لگانے اور حضور کی نعش مبارک کی بے حرمتی کرنے میں ناکام ما قال مالك مات عيسى راكمال الاكمال شرح مسلم ۱۶ ص۲۲۵ ست بخاری البواب التفسير ج ۳ ص (تفسير سورة النساء والمائده) س تغیر مجمع البیان زیر آسمیت فلما توفيتني مطبوعه ایران نشده مجری تاریخ الرسل و المدارک جلد ۲ ص ۷۳