وفات مسیح اور احیائے اسلام — Page 34
۳۴ اندھا ہو گیا۔اب تیرے بعد جو شخص چاہے مرے۔اعلی ہو یا موسی ) مجھے تو تیرے ہی مرنے کا خوف تھا اور در حقیقت صحابہ رضی اللہ عنہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق تھے اور اُن کو کسی طرح یہ بات گوارا نہ تھی کہ حضرت عیسی زندہ ہوں اور آپ فوت ہو جائیں۔پس اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت ان کو یہ معلوم ہوتا کہ حضرت عیسی آسمان پر مع جسم عنصری زندہ بیٹھے ہیںاور ان کا برگزیدہ نبی فوت ہو گیا توہمارے غم کے مرجاتے کیونکہ ان کو ہرگز اس بات کی برداشت ز تھی کہ کوئی اور نبی زندہ ہو اور ان کا پیارا نبی قبر میں داخل ہو جائے۔اللهم صل على محمد وآله و اصحابه اجمعين غیرت کی جا ہے، عیسی زندہ ہو آسماں پر" مدفون ہو زمین میں شاہ جہاں ہمارا اجماع صحابہ کی بازگشت بحرین میں مدینہ کے اس تاریخی اجماع کی بازگشت عہد صدیقی کے آغاز میں بحرین میں بھی سنائی دی جبکہ قبیلہ عبد القیس کے بہت سے لوگ جو اسلام لانے سے پہلے نصرانی تھے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کی خبر سن کر مرتد ہو گئے جس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نہایت محبوب اور جلیل القدر صحابی حضرت جارو د بن عمرو بن معلی ارتداد کی اس خوفناک رو کا مقابلہ کرنے کے لیے تن تنہا اُٹھ کھڑے ہوئے اور اپنے قبیلہ کو مخاطب کر کے کہا کہ اللہ تعالی نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم و مبعوث فرمایا اور حضور کے وصال کی بھی خبر دی چنانچہ فرمایا : إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ منتونه رزمر : ۳۱) اور فرمایا : وَمَا مُحَمَّد إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قبله الرسل (آل عمران : ۳۵) پھر انہوں نے لوگوں سے پوچھا کہ تم مضرت روٹی