وفا کے قرینے — Page 37
حضرت خلیفہ مسیح الاول رضی اللہ عنہ 37 در مدح حضرت خلیفۃ المسیح مکرم شیخ علی محمد احدی ڈنگوی صاحب رہے یارب ز نور نور دیں بزم جہاں روشن کہ ہے جب تک زمهر و مه زمین و آسماں روشن وہ نور الدین جو ہے یارب سراپا نور کا پتلا بچشم مردماں روشن برنگ مردم دیده گا: برستا نور ہے کیا نور دیں سے گلشن دیں پر کوئی دیکھے تو اب رنگ بہارِ جاوداں روشن ہے جس کے ہاتھ سے گردش میں جام بادۂ عرفاں ہے جسکی گرمی محفل ضمیر عارفاں روشن جسے بس دیکھتے ہیں ہم جہاں میں عاشق قرآں کہ ہے پیش نظر ہر دم چور وئے دلستاں روشن کئی مردوں کو از روئے طبابت بھی کرے زندہ کوئی بجھتے فتیلے کی کرے جیسے رواں روشن عجب ہے آفتاب علم و حکمت نوردیں یارب ہ ہو پر تو سے جس کے گوہر ایمان و جاں روشن " دلا دیکھ آئینے میں اس مسیحا کے خلیفہ کے ہیں کیا کیا جو ہر ذاتی مسیحا کے نہاں روشن