وفا کے قرینے

by Other Authors

Page 36 of 508

وفا کے قرینے — Page 36

حضرت خلیفہ مسیح الاول رضی اللہ عنہ 36 عبد الکریم لیڈر تھا ان میں اک ہمارا پر دوسرا جو خود اس رہبر کا رہ نما تھا ہے کون بھول سکتا وہ نوردیں یہی ہے محشر کا اک نمونہ تھا زلزلہ جو آیا محشر تلک وہ ہم سے جاتا نہیں بھلایا اک پاس کا تھا عالم سب مومنوں پہ چھایا ہاں قدم صدق جس کا ذرہ نہ ڈگمگایا اُٹھا ہمیں اُٹھایا وہ نور دیں یہی ہے موسائیوں کو وعدے کی سرزمیں میں لایا حواریوں کو اس نے گرتے ہوئے بچایا پھر کوه صدق ہو کر اسلام کو جمایا قدرت خدا کی ثانی بنکر وہ ہم میں آیا لاریب حق کا سایہ وہ نوردیں یہی ہے اے جانشین عیسی جاں بخش لب ہلا دے فائز ترا گدا ہے تو اس کو وہ دعا دے ہر ذرہ اس کی ہستی کا تجھ میں جو مٹا دے اک جلوہ شان وحدت کا اس کو بھی دکھا دے ہاں نور دیں یہی ہے وہ نور دیں یہی ہے