وفا کے قرینے — Page 35
حضرت خلیفہ مسیح الاول رضی اللہ عنہ 35 ہمارا امام مکرم غلام مرتضی صاحب دنیا میں اب امانِ اہلِ زمیں یہی ہے رز اور بام آسماں کی حبل امتیں یہی ہے اسلام گر ہے خاتم اُس کا نگیں یہی ہے قندیل آج زیر عرش بریں یہی ہے ہاں نورِ دیں یہی ہے وہ نور دیں یہی ہے جب چار سو جہاں میں اندھیر چھا رہا تھا بناؤں پر غیب کا تھا تجدید پرده سالار اہل تقویٰ تھا جو ازل سے اپنا الله فراست اُس نے وہ نور تا کا باطل کا وہ تلاطم پھر قطب بن کے چپکا وہ نور دیں یہی ہے وہ رات کالی کالی آتی تھی دھیمی دھیمی رہ رہ کے صوتِ ہادی گرداب وہ غضب کے موجیں وہ اک بلا کی کشتی نوح ثانی جس پر تھی آکے ٹھہری ایقان کا وہ جودی وہ نور دیں یہی ہے جب آسماں سے نازل ہم میں ہوئے مسیحا وہ کون دو ملک تھے جن نے دیا تھا کندھا