وفا کے قرینے — Page 34
حضرت خلیفہ المسیح الا ول رضی اللہ عنہ 34 دیکھنے والوں نے دیکھا بات کا پکا تھا تھا تو فیصلے تیرے اہل تھے قول کا سچا تھا تو اک تو کل اک بھروسہ تھا خدا کی ذات کون سمجھے گا عزیز و کس قدر اچھا تھا تو کاش حکمت کی گرہ کوئی تو مجھ پر کھولتا سر پہ رکھتا کاش مجھ سے بولتا میں ہمہ تن گوش سنتی اُس کی ہر اک بات کو باندھتی پہلے سے جو حکمت کے موتی تولتا کچھ جوابوں اور سوالوں میں جو ممکن ہی نہیں تجھ سا ہو کوئی جیالوں میں یہ ممکن ہی نہیں میرزا کو ایک ساتھی مل گیا تجھ سا حسیں زندگانی کے حوالوں میں جو ممکن ہی نہیں کاش اس دنیا میں ہوتا ایک نور الدین اور کوئی ماں جنتی جہاں میں ایک نور الدین اور موتیوں جیسا کھرا ، کتنا بہادر میرزا بھی اور ہوتا لیک نور الدین اور