وفا کے قرینے — Page 30
حضرت خلیفہ اصبح الا ول رضی اللہ عنہ 30 50 جو آئے ذہن میں رشتہ کبھی نبض و مجلس کا انا کے بت خودی کے ٹوٹے مندر یاد آتے ہیں نہیں جاتی ہماری سہل انگاری نہیں جاتی فقط بیٹھے ہی بیٹھے ان کے شہپر یاد آتے ہیں گلوں کے ساتھ کچھ گہرا تعلق بھی ہے کانٹوں کا وہ یاد آتے ہیں جب تو کچھ ستمگر یاد آتے ہیں چه خوش بو دے اگر هر يك ز امت نورِ دیں بودے یہ پاک الفاظ اک حسرت ہی بن کر یاد آتے ہیں تصور جب مجھے ماضی کے افسانے سناتا ہے کسی شاعر کا تب یہ شعر مجھ کو یاد آتا ہے نہیں آتی تو یاد ان کی مہینوں تک نہیں آتی مگر جب یاد آتے ہیں تو اکثر یاد آتے ہیں