وفا کے قرینے — Page 31
حضرت خلیفہ المسیح الا ول رضی اللہ عنہ 31 قدرتِ ثانیہ کے پہلے مظہر محترمہ شاکرہ صاحبہ اہلیہ شیخ لطف الرحمان صاحب ، ربوہ نظام قدرت ثانی کا جب وقتِ قیام آیا تو بن کر مظہر اوّل امام عالی مقام آیا از نور یقیں، اور نام نورالدین تھا اس کا وہ عاشق تھا ہر اک لمحہ فنا فی الدین تھا اس کا پر وہ کرتا تھا اطاعت حضرت اقدس کی کچھ ایسے کہ ہر دم نبض، چلتی نفس کے ہے ساتھ بس جیسے توکل بر خدا تھا اور حق گوئی میں لاثانی کسی بدخواہ کی ہر گز نہ اس نے بات کچھ مانی بہت ہمت سے کی شیرازہ بندی بھی جماعت کی بہت اس نے حفاظت کی امامت کی امانت کی حکیم حاذق تھا اس کے پاس تھا ہر درد کا درماں وفا کا صدق کا پیکر بھی تھا اور حافظ قرآں بسر ہوتے تھے دن تدریس میں اور درس میں اسکے سکوں پاتے تھے طالب اور معارف درس میں اسکے سکون دل کی خاطر آ گیا وہ قادیاں میں جب لٹا دی جان و مال و آبرو راہِ خدا میں سب