وفا کے قرینے — Page 29
حضرت خلیفہ مسیح الاول رضی اللہ عنہ 29 29 یاد آتے ہیں ! محتر مہ صاحبزادی امتہ القدوس بیگم صاحبہ سمائے قادیاں کے ماہ و اختر یاد آتے ہیں ڈھلے نوروں میں رُو ہائے منور یاد آتے ہیں خلوص و صدق و طاعت میں نہ تھا جن کا کوئی ثانی مثیل بوبکر صدیق اکبر یاد آتے ہیں وطن چھوڑا تو اس کی یاد بھی دل میں نہیں آئی جو آ بیٹھے یہاں دھونی رما کر یاد آتے ہیں در محبوب پہ لا کے متاع جسم و جاں رکھ دی جنہوں نے کر دیا سب کچھ نچھاور یاد آتے ہیں وہ جن کے فہم قراں کی مسیحا نے گواہی دی وہ نورالدین وہ اک نور پیکر یاد آتے ہیں عجب شان قاعت تھی ، عجب رنگ توکل تھا نہی ہستی میں بھی تھے جو تو نگر یاد آتے ہیں حدیث وعلم قرآں میں تھی جن کو دسترس حاصل تھے بحر معرفت کے جو شناور یاد آتے ہیں شجاعت بھی صداقت بھی تھی، حکمت بھی معارف بھی تھے وہ جو ایک نخلِ بار آور یاد آتے ہیں