وفا کے قرینے

by Other Authors

Page 465 of 508

وفا کے قرینے — Page 465

حضرت خلیفة اصبح الخامس ایده ال تعالى بنصر العزيز 465 یہ دولت ہم سنبھالیں گے مکرم اطہر حفیظ فراز صاحب خلافت کے امیں ہم ہیں امانت ہم سنبھالیں گے جو نعمت چھن چکی پہلے وہ نعمت ہم سنبھالیں گے خلیفہ کے لیوں سے جو گل و جوہر بکھرتے ہیں بڑے انمول موتی ہیں ، یہ دولت ہم سنبھالیں گے دسمبر کے مہینے میں جو وصل یار ہونا ہے برس ہا تک نگاہوں میں وہ ساعت ہم سنبھالیں گے اسی کی رہبری میں یہ فلک تک جو رسائی قسم مولا کی کھاتے ہیں یہ قامت ہم سنبھالیں گے جو بازو کٹ گرے اپنے تو دانتوں سے اٹھا ئیں گے بہر قیمت لوائے احمدیت ہم سنبھالیں گے ہے میرے رہبر ! مرے مرشد ! ترے خدام کہتے ہیں تمہیں چھاؤں میں رکھیں گے تمازت ہم سنبھالیں گے فراز اپنی تو عادت ہے وفا کی راہ میں مٹنا جہاں تک بس چلا اپنا یہ عادت ہم سنبھالیں گے