وفا کے قرینے

by Other Authors

Page 429 of 508

وفا کے قرینے — Page 429

حضرت خلیفة اسم الخامس ایدہ اللہ علی بنصرہ العزیز 429 صد سالہ جشن خلافت احمد یہ مکرم عطاء کریم شاد صاحب کڑی دھوپ تھی پر ہمارے لئے ، خدا کی محبت کا سایہ رہا لہو دے کے کو کو بڑھاتے رہے ، چمن دل کا یوں جگمگایا رہا پہاڑوں سے ٹکرا کے بڑھتے رہے ، جنوں ایک سر میں سمایا رہا خلافت کی صورت ہمارے لئے ، سدا ابر رحمت ہی چھایا رہا چلو روح پروری تانیں اٹھائے ، یہ تائید حق کے ترانے سنائیں خدا کی عنایت پہ سر کو جھکائے ، یہ صد سالہ جشنِ خلافت منائیں وہ قدوسیوں کا گروہ حزیں ، جسے نورِ دیں نے سہارا دیا وہ محمود سالار بن کے چلا ، سدا بڑھتے رہنے کا یارا دیا ستم سے جو تھے چُور پھر جی اٹھے ، جو ناصر نے ہنس کر اشارہ دیا عدد کے ستم جب بھنور بن گئے تو طاہر نے بڑھ کر کنارہ دیا اب آیا سکھانے ، چلو عہد مسرور سے ہم نبھائیں ایده خدا کی عنایت پہ سر کو جھکائے ، یہ صد سالہ جشن خلافت منا ئیں