وفا کے قرینے — Page 430
حضرت خلیفة المسح الامس ایدہ اللہ تعالی نصرہ العزیز 430 جو حق کی نداء قادیاں سے اٹھی ، وہ ہر سو فضاؤں میں لہرا گئی براہیں کا لشکر جو لے کے چلی، تو ادیان باطل کو لرزا گئی الہی نوشتوں میں تحریر تھا ، زمیں کے کناروں سے ٹکرا گئی افق در افق یوں پلتی رہی ، زمیں ضرب صوتی سے تھرا گئی ندائے خلافت ہے آواز مہدی، سمعنا ، اطعنا کا نعرہ لگائیں خدا کی عنایت پہ سر کو جھکائے ، یہ صد سالہ جشنِ خلافت منائیں مکرمه شگفته عزیز شاه صاحبه، اسلام آباد مسرور کیا ہے ہمیں مسرور ہی رکھنا ہر رنج و مصیبت سے سدا دُور ہی رکھنا پیمانہ عرفان پلا کر میرے پیارے مسحور ہی رکھنا ہمیں مخمور ہی رکھنا