وفا کے قرینے

by Other Authors

Page 19 of 508

وفا کے قرینے — Page 19

حضرت خلیفہ مسیح الاول رضی اللہ عنہ 19 بندیہ مہدی کا تھا مت دلیس کا کرنا خیال اِس اِشارے میں تھی شاید کوئی حکمت بے مثال پیکر عشق و وفا نے یوں جھکایا اپنا سر حضرت مہدی کے چرنوں میں بسا بیٹھا وہ گھر دل کی گہرائیوں سے تھا ہر دم فدائے میرزا نقطۂ محور تھا اُس کا بس رضائے میرزا رکس قدر ڈوبا ہوا تھا عشق کے انوار میں! صورتِ صدیق تھا وہ سیرت و کردار میں نور دیں کے نور سے تارے ہوئے تھے ماند ماند اُس کی سیرت کو لگائے میرزا نے چار چاند اُس کا مال و جان و تن سب کچھ فدا تھا دین پر ہستی کو کے لئے وہ مر مٹا تھا دین پر اسکی مرضی حق کی مرضی سے مگر واصل رہی میرزا کی اُسکو خوشنودی سدا حاصل رہی میرزا کی ہر ادا شمع تھی ، پروانہ تھا وہ تھا فدائے رُوئے دلبر خود سے بیگانہ تھا وہ میرزا سے اسکو نسبت تھی جو نبض و دل میں ہے عشق کا تھا وہ تعلق کہ جو اصل وظل میں ہے