وفا کے قرینے

by Other Authors

Page 20 of 508

وفا کے قرینے — Page 20

حضرت خلیفہ المسیح الا ول رضی اللہ عنہ 20 20 تھا فدا محبوب پر اپنی رضا سے دور تھا عادت 'لبیک' تھی چون و چرا سے دُور تھا بے نیاز این و آں تھا حق تعالیٰ کا ولی عشق کے مضمون کا شاید تھا عُنوان جلی اُس کے ماتھے پر چمکتا تھا سِتارہ سعید تھا نگاه میرزا میں سر برآورده مُرید جب مسیحا کر گئے دُنیائے فانی سے وصال مسند آرائے خلافت وہ ہوا زہرہ جمال اُس کا تھا دورِ خلافت زلزله در زلزله تھا جس کا تھا شاید مداوا اس کا عزم و ولولہ قلم کا گر دھنی تو وہ خطیب بے مثال جس کا کردارِ درخشاں تا ابد ہے بے مثال پیش حق گو آنکھ اُسکی اشک آلودہ رہی دل کی حالت مطمہ اور آسودہ رہی حافظ قرآن تھا وہ ہر طریق و طور میں بازگشت آتی رہے گی جسکی ہر اک دور میں آنے والے دور پر اُسکی نظر پڑتی رہی اسکی قوت باغیوں سے ذمہدم لڑتی رہی