وفا کے قرینے — Page 18
حضرت خلیفہ مسیح الاول رضی اللہ عنہ 18 اُسکی آنکھوں پر ہویدا تھا مقام میرزا قبل از بیعت بھی تھا گویا غلام میرزا مصلح دوراں کی تھا شاید دُعاؤں کا اثر شکل نورالدین میں تھا مل گیا کامل ثمر آبتاؤں میں کہ وہ مردِ مجاہد کون تھا؟ عاشق مرزا تھا وہ ہر آن اُسکا عون تھا اُسکے سینے میں بیا اک عشق کا طوفان تھا وہ رضائے میرزا پر ہر گھڑی قُربان ختگی تھی علم کی آیا وہ جب مرزا کے پاس یاں بھی لیکن اُسکی بجھ بجھ کے بھڑک اُٹھتی تھی پیاس مکتب کامل تھی اُسکو گفتگوئے میرزا لاکھ میخانوں سے بڑھ کر تھی سبُوئے میرزا فطرت زرخیز میں کیا تخم اُلفت ہو گئی ! صحبت مرزا تھی سونے پر سہاگہ ہو گئی بیعت اولی کا دن اُس کے لئے تھا یوم عید رحمت یزداں ہوئی اُس پر بنا پہلا مُرید آجمایا ڈیرہ واں آیا کا ڈیرہ چھوڑ کر قادیاں کا ہو گیا وہ اپنا بھیرہ چھوڑ کر