وفا کے قرینے — Page 384
حضرت خلیفة اسم الخامس ایده ال تعالى بنصرہ العزیز 384 پھر سے بہار آئی ہے اپنے گلستاں میں مکرمہ ڈاکٹر فہمیدہ منیر صاحبہ اک تہنیت کا نعرہ اُبھرا ہے اک مکاں میں پھر مل گیا ہے ساقی اک شکل مہرباں میں پھر ٹم کے ثُم لنڈ ہاؤ پھر جشن اک مناؤ اب ڈوبنے سے مطلب اندیشہ فغاں میں سیلاب اُتر گیا ہے زرخیز ہے زمیں اب سورج نکل رہا ہے اب اپنے گلستاں میں واللہ خلافت ه صبر جس کا انعام ہے ڈالا گیا تھا ہم کو اک مشکل امتحاں میں مولا نے آزمایا مولا نے دی سکینت اتنی سکت کہاں تھی اب جانِ ناتواں میں تیر و سناں نہیں ہیں ہتھیار ہیں دُعا کے کچھ توڑ پھوڑ دیکھو اب سینہ بتاں میں کچھ روشنی سی پھیلی ہے آس پاس اس کے کوئی مکین اُترا آکر ترے مکاں میں