وفا کے قرینے — Page 385
حضرت خلیفة المسح الامس ایدہ اللہ تعالی نصرہ العزیز 385 پھل پھول پھر کھیلیں گے روشن چراغ ہوں گے پھر سے بہار آئی ہے اپنے گلستاں میں پھر ہے نئی قیادت پھر ولولے نئے ہیں جشن طرب ہے عظمت اس بزم دوستاں میں مکرم فرحت ضیاء راٹھور صاحب یہ تیری عطا ہے کہ سبھی خوف ہوئے دور ہم امن کی حالت میں پھر اک بار ملے ہیں کیا ان کو زمانے کی ہواؤں کا خطر ہو! جو پھول خلافت کی وفاؤں میں کھلے ہیں