وفا کے قرینے

by Other Authors

Page 354 of 508

وفا کے قرینے — Page 354

حضرت خلیفة المسیح الرابع رحم اللہ تعالی 354 سبھی اہل وفا کو اہل بینش کو نظر آیا افق یہ روشنی ابھری ، ستارہ ایک پھر چپکا اُجالے کی کرن نے ہر اندھیرا ختم کر ڈالا ہر اک مضطر کے دل پر اک سکینت سی ہوئی طاری ہر اک کے لب پہ کلمہ ہائے حمد و شکر تھے جاری خدا دارم چه غم دارم خدا داری چه غم داری مگر میں کیا کروں جاناں مجھے تم یاد آتے ہو تمہارے ساتھ کتنے چہرے یادوں میں چلے آئے وہ اُجلے چاند چہرے! سوچ کر ہی جن کو میرے دل کی نگری میں اُجالا ہو چراغاں ہی، چراغاں ہو! مری جاں میں کبھی تم کو نہ ہر گز بھول پاؤں گی میں پھر اک بار اپنے عہد کی تجدید کرتی ہوں جو میں نے تم سے باندھا تھا نہ وہ نہ وہ پیمان توڑوں گی میں محبوب حقیقی کا کبھی دامن نہ چھوڑوں گی