وفا کے قرینے

by Other Authors

Page 353 of 508

وفا کے قرینے — Page 353

حضرت خلیفة المسیح الرابع رحم اللہ تعالی 353 اثر سے جس کے ہر ذی روح پتھر بن کے رہ جا۔جائے اگر تم دیکھ لیتے حال اس دم اپنی بستی کا تو کتنے دل گرفتہ کس قدر دلگیر ہو جاتے مرے آنسو تمہارے پاؤں کی زنجیر ہو جاتے اے کاش ! ایسا ہی ہو جاتا! اے کاش ! ایسا بھی ہو سکتا! نہ بازاروں میں سڑکوں پہ کوئی رونق نہ ہنگامہ اک سو ہو کا عالم اور سناٹا سا طاری تھا فسردہ صبحیں ، غمگیں شامیں اور سہمی ہوئی راتیں تھیں بس سر گوشیوں میں ہولے ہولے کرب کی باتیں فقط بس سسکیوں کی سرسراہٹ تھی فضاؤں میں اداسی رچ گئی تھی میری بستی کی فضاؤں میں ہر یکا یک دی ندا ہاتف نے ہلچل سی ہوئی پیدا لی اس بستی نے انگڑائی دریچہ دل کا بھی کھولا خدا کے فضل کا سایہ ، خدا کے پیار کا جلوہ