وفا کے قرینے — Page 346
حضرت خلیفة المسیح الرابع رحم اللہ تعالی 346 ایک پودا تناور شجر بن گیا مکرم جمیل الرحمن صاحب،ھالینڈ آندھی اٹھتی رہی ، برق گرتی رہی، جہل کی گود میں فتنے پلتے رہے ایک پودا تناور شجر بن گیا، بے بسی سے عدو ہاتھ ملتے رہے تنگ ہم پہ اگر چہ ہوئی یہ ز میں ایک سے ان گنت ہم ہوئے کہ نہیں تم خدا لگتی کہنا ہماری نہیں ہم تو دیوانے تھے دھن میں چلتے رہے اس سے پہلے کہ ہو جائیں آنکھیں لہو سجدہ گہر سے صدا آئی لَا تَقْنَطُوا خیمہ زن تیرگی ہے وہی کو بکو کو کچھ سے جس کی سورج نکلتے رہے وقت کے رنگ پھر کیا سے کیا ہو گئے سارے نمبر و دو فرعوں ہوا ہو گئے سطوت کجکلا ہی ملی خاک میں اور دیئے ہم فقیروں کے جلتے رہے نصرت حق سے منزل پہ ہیں دیدہ ور ، سہل ورنہ نہ تھا اک صدی کا سفر ان گنت قافلے گرد میں کھو گئے ان گنت راستے ہی بدلتے رہے حسن پجہتی ، صبر و وفا، ارتقاء ، سب نظام خلافت سے ممکن ہوا منکرین خلافت سے پوچھو ذرا کیسے شمس و قمر اُن پر ڈھلتے رہے ہم خداوند! کے ، وہ ہمارا ہوا، جو دیا جھولیاں بھر کے اس نے دیا حمد واجب ہے اس کی جمیل اور کیا قلب و جاں جس کی خاطر پگھلتے رہے