وفا کے قرینے — Page 315
حضرت خلیفة المسیح الرابع رحم اللہ تعالی 315 آجاؤ کہ اب مجلس عرفان یہیں ہے ! مکرم ارشاد احمد شکیب ایم اے اک حُسنِ جہاں تاب جو ربوہ میں مکیں ہے طاہر اسے کہتے ہیں وہ رخشندہ جبیں ہے بھر بھر کے آجاؤ کہ لے آؤ انہیں جو بھی ہیں تشکیک گزیدہ ربوہ کی زمیں مرکز انوار یقیں ہے بادہ عرفاں کے پیالے عرفان یہیں ہے کب ' مجلس اقوام میں ہے وحدتِ افکار ہے وحدتِ افکار تو بس ایک یہیں ہے یہ نظم ، ، یہ اُلفت ، یہ اخوت ، سیہ مساوات دکھلا دیں ہمیں آپ اگر اور کہیں ہے شابات جہاں پائیں سے اب کپڑوں سے برکت وہ وقت بھی آپہنچا ہے ، اب دُور نہیں پہنچو گے کنارے یہ اسی کشتی نوح سے اب جائے اماں اس کے سوا اور نہیں ہے ہم پیار۔ہے پیار سے جیتیں گے زمانے کے دلوں کو ہے دست دعا ہاتھ میں تلوار نہیں ہے