وفا کے قرینے

by Other Authors

Page 314 of 508

وفا کے قرینے — Page 314

حضرت خلیفة المسیح الرابع رحم اللہ تعالی 314 برکتیں یہ سب خلافت سے ہیں حاصل بے گماں ہے خلافت عز و جاه ملتِ اسلامیاں حق تعالیٰ نے لگایا ہے خلافت کا نہال کس کا بل بوتا ہے جو اس کو کرے گا پائمال حافظ و ناصر ہے اس کا وہ خُدائے ذوالجلال حی اور قیوم و باقی لایموت و لازوال ہے یہی منشاء حق و ایزد و ربّ الانام تا ابد جاری رہے گا یہ خلافت کا نظام وسعت آفاق اس کی بُوئے خوش سے عنبریں قلب ہر مومن میں ہے اس کی محبت جاگزیں ہر عدو اس کا ہوا شیطان کا ہے ہم قریں ہے خلافت ظل مہر و لطف ربّ العالمیں اے کہ جو انصار میں شامل ہیں از فضلِ خُدا لطف حق تعالیٰ سے تم خوش رہو ہر دم سدا مثل پروانہ خلافت کی شمع پر ہو فِدا تا رہے راضی خدائے کن فکاں رب الوریٰ ہوں گے روشن بحرو بر از نور شاہ کن فکاں یہ زمیں ہو گی نئی ہو گا نیا اک آسماں