وفا کے قرینے — Page 287
حضرت خلیفہ امسیح الثالث رحمه الله تعالی 287 رُوح پھرتی ہے بھٹکتی ہوئی ویرانوں میں دل ہے نیرنگی افلاک پر حیراں پیارے شکر ایزد تری آغوش کا پالا آیا اپنے دامن میں لئے دولت عرفاں پیارے فکر میں جس کے سرایت تری تھیل کی شو گفتگو میں بھی وہی حُسنِ نمایاں پیارے جس کی ہر ایک ادا نَافِلةً لكَ کی دلیل جس کی ہر ایک نوا درد کا عنواں پیارے دیکھ کر اس کو لگی دل کی بجھا لیتا ہوں آنے والے یہ نہ کیوں جان ہو قرباں پیارے تیری اس شمع کا پروانہ صفت ہو گا طواف تیرے ثاقب کا ہے اب تجھ سے یہ پیماں پیارے