وفا کے قرینے — Page 286
حضرت خلیفة المسیح الثالث رحم اللہ تعالی 286 مکرم ثاقب زیروی صاحب تو نے کی مشعل احساس فروزاں پیارے دل بھلا کیسے بھلا دے ترا احساں پیارے روح پژمردہ کو ایماں کی جلائیں بخشیں اور انوار سے دھو ڈالے دل و جاں پیارے ولولوں نے ترے ڈالی مہ و انجم پہ کمند تو نے کی سطوت اسلام درخشاں پیارے پہلے بخشا اب وہی وہی دین محمد کی قسم کھاتے ہیں تھے جو مشہور کبھی دشمن ایماں پیارے مرے بہکے ہوئے نغموں کو گداز پھر مری روح پہ کی درد کی افشاں پیارے مجھ کو بھولے گی کہاں وہ تری بھر پور نگاہ جگمگا اُٹھتا تھا جب فکر کا ایواں پیارے اب نگاہیں تجھے ڈھونڈ میں بھی تو کس جایا ئیں جانے کب پائیں سکوں پھر دل ویراں پیارے کون افلاک پہ لے جائے یہ روداد الم تیرا متوالا ابھی تک ہے پریشاں پیارے