وفا کے قرینے — Page 227
حضرت خلیفة المسیح الثالث رحم اللہ تعالی 227 خلافت کی بہار مکرم چوہدری شبیر احمد صاحب، ربوہ مژده باد اے ہمدمو! پھر چل رہا ہے دورِ جام مائل جود و کرم ہے ساقی عالی مقام تشنہ روحیں پی رہی ہیں شربت وصل و بقا پھر مئے عرفاں سے سارے ہو رہے ہیں شادکام کوچہ جاناں میں ہے پھر جاں نثاروں کا ہجوم اک نرالی شان سے وہ آئے ہیں بالائے بام الله الله این فرزند مسیحا کا جمال ذرہ ذرہ ہے منور صورت ماه تمام رشک کرتا ہماری خوش نصیبی بر فلک ہے پر کتنا بابرکت ہے یارو یہ خلافت کا نظام اب یہی وہ میکدہ ہے جس پہ ہے ابر کرم مورد بارانِ رحمت مربع ہر خاص و عام قائم و دائم رہے یارب خلافت کی بہار کام والی عمر پائے ساقی عالی مقام