وفا کے قرینے

by Other Authors

Page 164 of 508

وفا کے قرینے — Page 164

حضرت خلیة السیح الثانی رضی اللہ عنہ 164 اُمید کی ہر اک کلی مرجھائی ہوئی تھی اور پاس کی تاریک گھٹا چھائی ہوئی تھی لیکن یہ خدائے دو جہاں کا تھا نوشتہ زندگی پیدا اسلام میں اک بار ہو پھر زند اللہ نے آخر کیا اس وعدے کو ایفا اور بھیج دیا دنیا میں موعود مسیحا پھر کر دی عطا فضل سے اپنے وہی نعمت یعنی کہ خلافت علی منہاج نبوت موعود مسیحا نے براہین قوی ادیان مجازی کے اڑا ڈالے پرنچے اسلام کو غلبہ ہوا حاصل نئے سر سے ظلمت ہوئی کافور پھر اس نور کے آگے آخر وہ مسیحا بھی ہوا دہر سے رخصت اور اپنی جماعت کو یہ کی اس نے وصیت رخصت کی گھڑی گرچہ بہت سخت رہے گی جانے سے مرنے مومنوں کی جاں پہ بنے گی تقدیر بہر حال ہے یہ ہو کے رہے گی پر غم نہ کرو ' قدرت ثانی ' بھی ملے گی