وفا کے قرینے — Page 165
حضرت خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ عنہ 165 وہ قدرتِ ثانی کہ جو ہے دائگی نعمت انعامِ خداوندی ہے، نام اُس کا خلافت پس حسب وصیت جو صحابہ میں تھا افضل اس قدرت ثانی کا بنا مظہر اوّل وہ دین کا تھا نور ، رہِ صدق میں اکمل اس دور کا صدیق تھا مومن تھا گر غور کریں تھا یہی مفہوم وصیت یہ قدرتِ ثانی اس قدرتِ ثانی کی ہے کیا اصل حقیقت عمل ہے حقیقت میں خلافت آیا ہے مراد 'انجمن' اس سے کہ خلافت اُس مرسل ربانی نے خود کی ہے وضاحت دو قدرتیں ظاہر وہ فرمایا ازل سے ہے یہ اللہ کی سنت کیا کرتا ہے اپنی تم کو بھی دکھائے گا وہ اب قدرتِ ثانی اُس قدرت ثانی کے مظاہر جو بنیں گے وہ نور سراپا ہیں سدا پھولیں پھلیں گے وہ دین کی تبلیغ ہر اک سمت کریں گے اور خدمت اسلام میں مصروف رہیں گے