اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 73 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 73

اسوۃ انسان کامل 73 رسول اللہ کی محبت الہی و غیرت توحید لاتے ہو؟ اس نے کہا نہیں۔آپ نے فرمایا پھر تم جاسکتے ہو۔میں کسی مشرک سے مدد لینا نہیں چاہتا۔سبحان اللہ ! تو حید کی کیسی غیرت ہے کہ حالت جنگ میں ہوتے ہوئے بھی ایک بہادر سورما کی مدد اس لئے قبول کرنے کو تیار نہیں کہ وہ مشرک ہے۔کچھ دیر بعد اس نے پھر حاضر ہو کر یہی درخواست کی تو آپ نے وہی جواب دیا۔وہ تیسری دفعہ آیا اور عرض کیا کہ مجھے بھی شریک لشکر کر لیں۔آپ نے پھر پوچھا کہ اللہ اور رسول پر ایمان لاتے ہو؟ اس دفعہ اس نے اثبات میں جواب دیا تو آپ نے فرمایا ”ٹھیک ہے پھر ہمارے ساتھ چلو۔“ ( مسلم )35 عظمت توحید غزوہ احد میں کفار مکہ کے درۂ احد سے دوبارہ حملہ کے بعد مسلمانوں کو ہزیمت اٹھانی پڑی۔اس دوران ستر مسلمان شہید ہوئے تھے۔خود حضور کی شہادت کی خبریں پھیل گئیں۔دشمن کو اس پر خوش ہونے کا موقع میسر آ گیا۔ابوسفیان فخر میں آکر اپنی فتح جتلانے لگا۔اس نازک حالت میں (جب مسلمان خود حفاظتی کی خاطر ایک پہاڑ کے دامن میں پناہ گزیں تھے ) ابوسفیان مسلمانوں کو مخاطب کر کے کہنے لگا۔” کیا تم لوگوں میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم موجود ہیں؟“ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے از راہ مصلحت ارشاد فرمایا کہ ان کو جواب دینے کی ضرورت نہیں۔مسلمانوں کی خاموشی دیکھ کر ابوسفیان کا حوصلہ بڑھا۔کہنے لگا کیا تم میں ابو قحافہ کا بیٹا (ابوبکر) ہے؟ حضور نے پھر ارشاد فرمایا کہ جواب نہ دو۔اس پر ابوسفیان پھر بولا کیا تم میں خطاب کا بیٹا (عمر) ہے؟ مسلمانوں کی مسلسل خاموشی دیکھ کر ابو سفیان نے فتح و کامرانی کا نعرہ لگایا اور کہا انغل هبل - ہبل بہت زندہ باد۔یہ سن کر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی غیرت تو حید نے جوش مارا اور آپ نے فوراً جواب دینے کا ارشاد فرمایا۔صحابہ نے پوچھا کیا جواب دیں؟ فرمایا کہو الله أعْلَى وَأَجَلُّ اللہ سب سے بلند اور اعلیٰ شان والا ہے۔ابوسفیان نے پھر کہا ہمارا تو عزمی بہت ہے۔تمہارا کوئی عزی نہیں ! آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا اس کو جواب میں کہو کہ اللہ ہمارا مولیٰ ہے اور تمہارا کوئی مولیٰ نہیں۔( بخاری ) 36 فتح مکہ کے موقع پر بھی غیرت توحید کی عجب شان دیکھنے میں آئی۔خدائے واحد کا گھر ابراہیم خلیل اللہ نے ان دعاؤں کے ساتھ تعمیر کیا تھا کہ خدایا مجھے اور میری اولا د کو بتوں کی پرستش سے بچانا۔(سورۃ ابراھیم : 36 ) رسول اللہ کی بعثت کے وقت اس خانہ خدا کو 360 جھوٹے خداؤں نے گھیر رکھا تھا۔لیکن ابراہیمی دعاؤں کی بدولت اب رسول اللہ کے ذریعہ اس ظلم اور جھوٹ کے مٹنے کا وقت آگیا تھا چنانچہ فتح مکہ کے موقع پر آپ نے خانہ کعبہ تشریف لا کر خدا کے گھر کو بتوں سے پاک کیا۔مکے میں داخلے کے وقت دنیا نے کمال انکسار کا یہ منظر دیکھا تھا کہ جب اپنی ذات کا معاملہ تھا تو اس فخر انسانیت نے اپنا وجود کتنا مٹادیا اوراپنا سرکتنا جھکا دیا تھا کہ سواری کے پال ان کو چھونے لگا لیکن جب رب جلیل کی عظمت ووحدانیت اور غیرت کے اظہار کا وقت آیا تو نبیوں کے اس سردار نے ایک ایک بت کے پاس جا کر پوری قوت سے اُس پر اپنی کمان