اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 72 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 72

اسوۃ انسان کامل 72 رسول اللہ کی محبت الہی و غیرت توحید حضرت اسامہ نے جب ایک جنگ میں مد مقابل دشمن پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا تو اس نے کلمہ پڑھ لیا۔اسامہ نے پھر بھی اسے ہلاک کر دیا تو رسول اللہ بین کر بہت ناراض ہوئے اور فرمایا کہ توحید کا اقرار کرنے والے ایک شخص کو کیوں قتل کیا ؟ قیامت کے روز جب کلمہ تمہارے گریبان کو پکڑے گا تو کیا جواب دو گے؟ اور جب اسامہ نے کہا کہ وہ بچے دل سے کلمہ نہیں پڑھتا تھا تو فرمایا کہ ” کیا تم نے اس کا دل چیر کر دیکھ لیا تھا؟“ (مسلم) 31 رسول کریم تو حید کے بارے میں اتنی احتیاط فرماتے تھے کہ ایک دفعہ ایک یہودی عالم نے آپ کی مجلس میں آکر ذکر کیا کہ اے محمد ! آپ بہت اچھے لوگ ہیں بشرطیکہ آپ شرک نہ کریں۔رسول کریم نے کمال عاجزی سے فرمایا اللہ پاک ہے۔وہ شرک کیا ہے؟ وہ کہنے لگا آپ ” وَ الكَعبة“ کہ کر کعبہ کی قسم کھاتے ہو۔حالانکہ مسلمان کعبہ کے بارہ میں کوئی مشرکانہ عقیدہ نہیں رکھتے تھے پھر بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ توقف کے بعد موقع ظن سے بچنے اور احتیاط کی خاطر مسلمانوں کو نصیحت فرمائی کہ اب اس شخص نے ایک بات کہہ دی ہے اس لئے آئندہ حلف کے وقت کعبہ کی بجائے رب کعبہ کہہ کر قسم کھایا کرو۔پھر وہ یہودی عالم کہنے لگا آپ بہت اچھی قوم ہیں۔بشرطیکہ آپ خدا کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔رسول کریم نے فرمایا اللہ پاک ہے۔ہم کونسا شریک ٹھہراتے ہیں؟ اس نے کہا آپ لوگ کہتے ہیں اللہ نے چاہا اور تم نے چاہا۔رسول کریم نے پھر توقف کیا اور فرمایا اس نے ایک بات کر دی ہے۔پس آئندہ جو شخص کہے کہ (ماشاء اللہ اللہ نے چاہا تو اس کے بعد وقفہ ڈال کر کہ سکتا ہے کہ تم نے چاہا۔( اکٹھے یہ جملے کہنے میں احتیاط کی جائے )۔( احمد )32 چنانچہ ایک دفعہ ایک شخص نے نبی کریم سے کہا ما شاء الله وشئت کہ جو اللہ نے چاہا اور آپ نے چاہا۔نبی کریم نے فرمایا تم نے مجھے اللہ کے برابر ٹھہرایا بلکہ اصل وہ ہے جو صرف خدائے واحد نے چاہا۔( احمد ) 33 حضرت عمر ایک دفعہ اپنے والد کی قسم کھارہے تھے۔رسول اللہ نے ان کو پکار کر فرمایا سنو! اللہ تمہیں اپنے باپوں کی قسم کھانے سے منع کرتا ہے، جسے قسم کھانے کی ضرورت پیش آئے وہ اللہ کی قسم کھائے یا پھر خاموش رہے۔( بخاری ) 34 غیرت توحید زندگی کے بڑے سے بڑے ابتلاء میں بھی جب خود رسول اللہ اور آپ کے صحابہ کی جانیں خطرہ میں تھیں آپ غیرت تو حید کی حفاظت سے غافل نہیں ہوئے بلکہ آپ کی محبت تو حید کمال شان کے ساتھ ظاہر ہوئی۔حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ غزوہ بدر کے لئے تشریف لے جارہے تھے کہ حرة الوبرہ مقام پر ایک مشرک شخص حاضر خدمت ہوا۔جرات و شجاعت میں اس کی بہت شہرت تھی۔صحابہ اسے دیکھ کر بہت خوش ہوئے کہ ایک سور ما حالت جنگ میں میسر آیا ہے۔اس نے رسول اللہ کی خدمت میں عرض کیا کہ میں اس شرط پر آپ کے ساتھ لڑائی میں شامل ہونے آیا ہوں کہ مال غنیمت سے مجھے بھی حصہ دیا جائے۔آپ نے فرمایا کیا تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان