اسوہء انسانِ کامل — Page 74
اسوۃ انسان کامل 74 رسول اللہ کی محبت الہی و غیرت توحید ماری۔یکے بعد دیگرے انگو گراتے چلے گئے۔آپ بڑے جلال سے یہ آیت تلاوت کر رہے تھے۔جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا (سورة بنی اسرائیل: 82) کہ حق آگیا اور باطل مٹ گیا اور وہ ہے ہی مٹنے والا۔( بخاری ) 37 فتح پر خدائے واحد کی عظمت کے نعرے چند لمحوں میں ضرب مصطفوی سے تمام بت ریزہ ریزہ ہو گئے۔عڑی ٹوٹ کر پارہ پارہ ہو گیا اور ہل پاش پاش ہو کر بکھر گیا۔(ابن ہشام )38 تعمیر بیت اللہ کا یہ مقصد پورا ہوا کہ اس میں صرف اور صرف خدائے واحد کی پرستش کی جائے۔یہ محمد مصطفی میں لینے کی مرادوں اور تمناؤں کے پورا ہونے کا دن تھا۔یہ خدا کی بڑائی ظاہر کرنے اور عظمت قائم کرنے کا دن تھا۔اس روز رسول خداً کو زندگی کی سب سے بڑی خوشی پہنچی کہ تو حید کا بول بالا ہوا تھا۔اس کیفیت میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے پاس تشریف لائے اور حجر اسود کا بوسہ لیا تو وفور جذبات سے آپ نے بآواز بلند اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا۔صحابہ نے بھی جواب میں اللہ اکبر، اللہ اکبر کے نعرے لگائے اور اس زور سے لگائے کہ سرزمین مکہ نعرہ ہائے تکبیر سے گونج اٹھی۔مگر نعرے تھے کہ تھمنے کا نام نہ لیتے تھے۔تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کے اشارے سے صحابہ کو خاموش کرایا۔(زرقانی) 39 پس فتح مکہ کا دن بھی دراصل توحید کی عظمت اور قیام کا دن تھا۔اس روز رسول اللہ نے اپنی فتح کا کوئی نقارہ نہیں بجایا۔ہاں ! اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال کے شادیانے ضرور بجائے گئے۔یہ کہتے ہوئے لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ أَعَزَّ جُندَهُ وَنَصَرَ عَبْدَه ، وَصَدَقَ وَعْدَهُ وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَه ، کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ ایک ہے اس نے اپنے لشکر کی عزت افزائی کی اور اپنے بندے کی مدد کی اور اپنا وعدہ پورا فرمایا۔تنہا اسی نے تمام لشکروں کو پسپا کر دیا۔( بخاری 40) یہ تھا اپنی زندگی کی عظیم فتح پر ہمارے آقا ومولیٰ کا نعرہ توحید۔توحید پر گہرے ایمان کی وجہ سے رسول اللہ کو کبھی کسی کا خوف پیدا نہیں ہوا۔غزوہ حنین میں تیروں کی بوچھاڑ کے سامنے آپ خچر پر سوار مسلسل آگے بڑھ رہے تھے اور بآواز بلند فرمارہے تھے۔آنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبُ أَتَابُنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبُ میں نبی ہوں۔جھوٹا نہیں ہوں۔میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔( بخاری )41 آپ کا تن تنہا ایک لشکر کے تیروں کی بوچھاڑ کا سامنا کرتے ہوئے آگے بڑھنا جہاں تو حید کامل پر ایمان کا نتیجہ تھا وہاں آپ کی صداقت کا محیر العقول معجزہ بھی تھا۔