اسوہء انسانِ کامل — Page 71
اسوۃ انسان کامل 71 رسول اللہ کی محبت الہی و غیرت توحید 25 جانی دوستوں کی قربانی بھی دی اور خود اپنی جان کی قربانی پیش کرنے سے بھی دریغ نہ کیا۔ہمیشہ قیام تو حید کے لئے کوہ استقامت بن کر تمام ابتلاؤں کا مقابلہ کیا۔آپ نے تو حید کو ہی ذریعہ نجات قرار دیا اور فرمایا کہ جس نے صدق دل سے توحید باری کا اقرار کیا وہ جنتی ہے۔(احمد) 5 اپنی امت کو ہمیشہ تو حید کے ترانے اور نغمے الاپنے کی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا ” کہ جس شخص نے دن میں سو مرتبہ خدا کی توحید کا یوں اقرار کیا لا اله الا اللهُ وَحْدَه، لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْ قَدِیر۔کہ خدا کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ ایک ہے۔اس کا کوئی شریک نہیں، بادشاہت اُسی کی ہے۔تمام تعریفوں کا بھی وہ مستحق ہے اور وہ ہر شے پر قادر ہے۔ایسے شخص کو دس غلاموں کی آزادی کے برابر ثواب ہوگا اور اس کے لئے سونیکیاں لکھی جائیں گی اور سوبرائیاں مٹائی جائیں گی۔توحید باری پر مشتمل یہ ذکر اس دن شام تک کے لئے شیطان سے اُس کی پناہ کا ذریعہ بن جائے گا اور کوئی شخص اُس سے بہترعمل والا قرار نہیں پائے گا سوائے اُس شخص کے جو یہ ذکر اس سے بھی زیادہ کثرت سے کرے۔( بخاری ) 6 رسول اللہ نے تو حید کی حفاظت کی خاطر وطن کی قربانی بھی دی اور مدینہ ہجرت کر لی۔جب وہاں بھی دشمن تعاقب کر 26 کے حملہ آور ہوا تو مجبور دفاع کے لئے تلوار اٹھائی مگر ان دفاعی جنگوں کی غرض بھی یہی تھی کہ خدا کا نام بلند ہو۔ایک دفعہ کسی نے پوچھا اے اللہ کے رسول ! کوئی شخص حمیت کی خاطر لڑتا ہے، کوئی شجاعت کے لئے تو کوئی مال غنیمت کی خاطر۔ان میں سے خدا کی خاطر جہاد کرنے والا کون شمار ہوگا ؟ آپ نے فرمایا وہ شخص جو اس لئے لڑتا ہے کہ اللہ کا کلمہ بلند ہوا ور تو حید کی عظمت قائم ہو، فی الحقیقت وہی خدا کی راہ میں لڑنے والا شمار ہوگا۔( بخاری ) 27 رسول اللہ نے توحید کا یہ احترام بھی قائم کیا کہ اپنے اوپر حملہ آور ہونے والے اور ظلم کرنے والے جانی دشمنوں کے متعلق فرمایا کہ اب بھی اگر یہ کلمہ توحید پڑھ لیں تو ہماری ان سے کوئی لڑائی نہیں۔( بخاری 28) گویا ہماری تلوار میں جو اپنے دفاع کے لئے اٹھی تھیں کلمہ کے احترام میں پھر میانوں میں واپس چلی جائیں گی۔چنانچہ آنحضور نے کلمہ توحید کا اقرار کرنے پر جانی دشمن کو امان دینے کا حکم دیا۔آپ نے فرمایا کہ جس بستی سے اذان کی آواز آتی ہو ( جو تو حید اور رسالت کے اقرار پر مشتمل ہے ) اس پر حملہ نہیں کرنا۔( بخاری ) 29 حضرت مقداد بن عمر و کندی بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول کریم سے پوچھا کہ اگر کسی کافر کے ساتھ میدان جنگ میں میرا مقابلہ ہو، وہ میرا ہاتھ کاٹ دے اور کسی درخت کی آڑ لے کر مجھ سے بچنے کی خاطر کہہ دے کہ میں اللہ کی خاطر مسلمان ہوتا ہوں تو کیا اس کلمے کے بعد میں اسے قتل کرنے کا حق رکھتا ہوں۔فرمایا نہیں تم اسے ہرگز قتل نہ کرو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! اس نے میرا ہاتھ کاٹا ہے اور اس کے بعد مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔حضور نے فرمایا اسے قتل نہ کرو۔اگر تم اسے قتل کرو گے تو وہ مسلمان اور تم کافر سمجھے جاؤ گے۔“ (بخاری) 30